خطبات محمود (جلد 8) — Page 453
453 دیکھو آج یہ جو ہزار ۱۲ سو یا اس سے بھی زیادہ لوگ میرے سامنے بیٹھے ہیں ان میں شاید کوئی غیر بھی ہو لیکن باقی سارے کے سارے ایسے ہیں جنہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔جو میں انہیں کہوں گا کرنے کے لئے تیار ہوں گے اور اپنے اخلاص اور ایثار میں دنیا کی کسی جماعت سے کم نہیں بلکہ اپنی نظیر آپ ہی ہیں۔ہر حکم ماننے کے لئے تیار ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ یہ جماعت پیدا کس نے کی؟ صاف بات ہے کہ ان میں جو اخلاص اور ایثار پایا جاتا ہے وہ حضرت مسیح موعود ہی کی کوشش کا نتیجہ ہے اگر میں اس بات کو دیکھ کر کہ اتنے لوگ میری بات مانتے ہیں جتنے حضرت مسیح موعود کے وقت نہ تھے اور اتنے لوگ میری باتیں سنتے ہیں جتنے حضرت مسیح موعود کی باتیں نہ سنتے تھے یہ خیال کر لوں کہ میرا درجہ آپ سے بڑھ کر ہے تو یہ کیسی بے وقوفی کی بات ہو گی ہمیں اصل منبع دیکھنا چاہیئے اور ہر کامیابی کا باعث اس کو قرار دینا چاہیئے۔اگر آج ہمارا رعب دنیا پر پہلے سے زیادہ ہے اور پہلے کی نسبت زیادہ لوگ ہماری باتیں مانتے ہیں تو یہ ہماری کسی قابلیت کا نتیجہ نہیں بلکہ حضرت مسیح موعودہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔کیا آپ سے پہلے لوگ وعظ و نصیحت کرنے والے نہ تھے۔ان کی باتوں کا کیوں لوگوں پر اثر نہ ہوتا تھا۔یا اب ایسے لوگ نہیں ہیں۔جو آپ سے علیحدہ ہو کر وعظ و نصیحت کرتے ہیں مگر کوئی ان کی بات نہیں سنتا اس کی کیا وجہ ہے یہی کہ ان میں وہ نور اور روشنی نہیں جو حضرت مسیح موعود کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔انہیں وہ جذب اور وہ قوت نہیں جو حضرت مسیح موعود سے حاصل ہوتی ہے۔اس لئے ان کی باتیں بے اثر تھیں اور اب بھی ہیں۔خوب یاد رکھو۔یہ مسئلہ میرے نزدیک بہتوں کے لئے حل نہیں ہوا۔ہماری جماعت کے کئی لوگوں کے لئے بھی حل نہیں ہوا۔غیر مبایع اور غیر احمدی تو الگ رہے اور وہ یہ ہے کہ دنیا میں ایک ہی چیز ہے جس کا انکار کفر ہے۔اسی لئے میں کسی بھی انسان کی اتنی عظمت کا قائل نہیں ہوں کہ اس کی ذات کا انکار کفر ہو۔کفر صرف خدا کی ہستی کا انکار ہے اور ہم جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کا انکار کفر ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے۔کہ ان کی ذات کا انکار کفر ہے بلکہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی جو باتیں وہ لائے ان کا انکار کفر ہے ورنہ اگر اس بات کو علیحدہ کر دو۔تو پھر وہ کیا تھے۔ایک بڑھئی کے گھر پیدا ہونے والے اور ایک یہودی خاندان کے فرد تھے۔جنہیں زیادہ سے زیادہ فریسی اور فقہی کہہ سکتے تھے۔اس سے زیادہ کیا تھے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا ہیں رسالت کو علیحدہ کر کے دیکھو تو آپ عربوں میں سے ایک عرب تھے اور عرب ہونے کی حیثیت سے لوگ آپ کی غلامی کرنے کے