خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 445

445 تعالی کی توحید اور بڑائی سے کامیابی ہوتی ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ کی توحید اور بڑائی نہ ہو۔تو کوئی کامیابی نہیں۔روحانی طور پر تو یہ بات صاف ہی ہے کہ وہی انسان روحانیت میں کامیاب ہو گا جو خدا تعالیٰ کی توحید کا قائل ہو گا۔مگر دنیاوی کامیابی اور شان و شوکت بھی اسی سے وابستہ ہے۔کامیابی کے معنی کیا ہیں کہ روکیں اور مشکلات راستہ سے دور ہو جائیں اور روکیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ایک وہ جو انسانوں کی طرف سے ظاہری طور پر آتی ہیں۔اور دوسری روحانی جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں۔اب جو شخص خدا کے لئے سب کچھ چھوڑ کر نماز کے لئے آتا ہے۔اس کے لئے خدا تو روکیں نہیں ڈالے گا کیونکہ جب کوئی خدا کے لئے آتا ہے۔تو اس کے راستہ میں خدا روکیں نہیں ڈالتا۔بلکہ روکوں کو دور کرتا ہے۔دوسری کامیابی کے راستہ میں روکیں ڈالنے والی چیز انسان ہیں۔لیکن اگر دشمن دوست بن جائیں۔تو وہ بھی روکیں نہیں ڈالتے۔دیکھو ماں باپ بچوں کے کیسے ہمدرد ہوتے ہیں ان کی تربیت کرتے ہیں۔ان کو پڑھاتے ہیں۔ان پر روپیہ خرچ کرتے ہیں۔خود فاقے اٹھاتے ہیں۔کیوں؟ اس لئے کہ ان کے دلوں میں بچوں کی محبت ہوتی ہے۔وہ چونکہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے ترقی کریں۔اس لئے وہ ان کے راستہ میں روکیں نہیں ڈالتے۔بلکہ ان کی مدد کرتے ہیں۔اسی طرح اگر تمام بنی نوع انسان دوست بن جائیں۔تو ان کی طرف سے بھی روکیں حائل نہ ہوں گی۔بلکہ وہ مدد گار ثابت ہوں گے تو فرمایا یہ نماز با جماعت کا نتیجہ ہو گا۔اب سوال یہ ہے کہ نماز باجماعت ادا کرنے سے یہ کیونکر ہو جائے گا اس کے لئے یاد رکھو کہ خدا تعالی نماز با جماعت سے یہ بتاتا ہے کہ جو کام مل کر ہو سکتے ہیں۔وہ علیحدہ نہیں ہو سکتے اگر نماز سے صرف خدا تعالٰی کا نام ہی لینا مقصود ہے تو یہ گھر میں بھی لیا جا سکتا ہے۔کیا مسجد میں آکر دو دفعہ فاتحہ پڑھی جاتی ہے۔اور اگر گھر میں ایک دفعہ یا مسجد میں آکر لمبے سجدے کئے جاتے ہیں اگر کوئی ایسا کرتا ہے یعنی مسجد میں لوگوں کو دکھانے کے لئے لیے سجدے کرتا ہے تو یہ اس کی ریا کی نماز ہوگی اور اس کے منہ پر ماری جائے گی پھر کیا وجہ ہے کہ مسجد میں آنے کا حکم دیا گیا اس لئے کہ مل کر کام کیا جائے اور یہی کامیابی کا ذریعہ ہے۔دیکھو جب ایک فوج کو کوچ کا حکم دیا جاتا ہے۔تو اس میں بعض کا قدم لمبا ہوتا ہے اور بعض کا چھوٹا لیکن مارچ کے لئے ایک خاص اندازہ رکھا جاتا ہے اور سب کو ایک چال پر چلایا جاتا ہے جس سے تیز چلنے والا اپنی تیزی کو روک کر باقیوں کے ساتھ چلتا ہے اور آہستہ چلنے والا تیزی اختیار کر کے دوسروں کے ساتھ رہتا ہے۔اس طرح سب مل کر چلتے ہیں۔اسی