خطبات محمود (جلد 8) — Page 444
444 سنتے ہیں، مگر خیال نہیں کرتے کہ اس میں کیا سبق ہے، حالانکہ اذان میں بہت سی حکمتیں ہیں، جو میں نے پہلے بیان کی ہیں۔اور آج ایک اور کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔دیکھو پہلے موذن زور سے اللہ اکبر کہتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرتا ہے، پھر رسالت کا اقرار کرتا ہے، پھر حتی علی الصلوۃ کہتا ہے کہ اے لوگو ! نماز کی طرف آؤ۔نماز کی طرف آؤ پھر حتی علی الفلاح کہتا ہے۔کہ اے لوگو کامیابی کی طرف آؤ پھر عجیب بات ہے دوبارہ اذان کہنے لگتا ہے۔یعنی اللہ اکبر اللہ اکبر کہتا ہے۔اب سوچنا چاہیئے کہ یہ خاص الفاظ کیوں رکھے گئے اور اس ترتیب سے کیوں رکھے گئے ہیں۔اور کیا وجہ ہے کہ جب موذن اذان شروع کرتے وقت اللہ اکبر کہتا ہے تو پھر خاتمہ پر کیوں انہی الفاظ کو دہراتا ہے۔اس کے جواب میں بہت لوگ کہیں گے کہ دوبارہ کہنے میں تکرار ہے۔اور پہلے ہی الفاظ کو دہرایا گیا ہے ، مگر سوال یہ ہے کہ اس تکرار میں حکمت کیا ہے۔الفاظ کے لحاظ سے کوئی تو ازن قائم نہیں ہوتا کہ اس کے لئے تکرار ہو۔مضمون کے لحاظ سے کوئی نئی بات نہیں مضمون وہی ہے جو پہلے تھا، پھر تکرار کیوں؟ اس کے لئے جب ہم اذان کو دیکھتے ہیں۔تو ایک لطیف حکمت اس تکرار میں پائی جاتی ہے۔موذن توحید اور رسالت کا اقرار کرنے کے بعد حتی علی الصلوۃ کہتا ہے کہ نماز کی طرف آؤ پھر حی علی الفلاح کہتا ہے کہ کامیابی کی طرف آؤ اس سے یہ معلوم ہوا کہ اسلام یہ سکھاتا ہے کہ نماز کامیابی کی جڑ ہے۔کیونکہ پہلے کہا کہ نماز کی طرف آؤ پھر کہا کہ کامیابی کی طرف آؤ اس سے پتہ لگا کہ ایک کامیابی کے متلاشی روحانیت کے دلدادہ اور خدا سے تعلق پیدا کرنے والے کے لئے ضروری کہ اگر وہ کامیابی چاہتا ہے تو نماز پڑھے اور نماز باجماعت پڑھے۔کیونکہ اگر نماز باجماعت کی شرط کامیابی کے لئے ضروری نہ ہوتی تو مئوذن حتی علی الصلوٰۃ نہ کہتا بلکہ یہ کہتا کہ پڑھ لو پڑھ لو۔ہے۔تو یہ الفاظ ہی بتلاتے ہیں کہ مسجد میں بلایا جاتا ہے اور باجماعت نماز پڑھنے کے لئے بلایا جاتا ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیونکر نماز باجماعت پڑھنے میں کامیابی ہے۔اس کا جواب آگے دیا ہے۔اور وہ یہ کہہ کر اللہ اکبر اللہ اکبر یہ تکرار کے لئے نہیں لایا گیا۔بلکہ نئے مضمون کا اظہار کیا گیا۔پہلی دفعہ جب موذن اللہ اکبر کہتا ہے تو اپنے عقیدہ کا اظہار کرتا ہے اور اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتا ہے۔اور جب یہ اقرار کر لیتا ہے۔تو یہ حکم سناتا ہے کہ نماز کے لئے آؤ۔اور آگے بتاتا ہے۔که اگر نماز با جماعت ادا کرو گے۔تو کامیابی ہو گی کیوں ہو گی باجماعت نماز کا نتیجہ یہ ہو گا کہ خدا کی بڑائی ظاہر ہو گی۔اور یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید اور بڑائی سے کامیابی ہوتی ہے۔اور اگر خدا