خطبات محمود (جلد 8) — Page 43
43 نے کس کس کو تکلیف دی ہے۔یہ ہمارے لئے دوسری خوش خبری ہے۔اس لئے کہ یہ ان بھائیوں کے متعلق ہے جن کو ہم یہاں سے کوئی مدد نہیں دے سکتے کیونکہ وہ یہاں کی حکومت سے باہر ہیں۔ہم ان کو ان کے دکھوں اور تکالیف میں تسلی نہیں دے سکتے۔پس اس گورنر کا ماخوذ ہونا ان کے لئے خوشی ہے اور ہمارے لئے یہ دوہری خوشی ہے۔اب میں اپنی جماعت کے لوگوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہمیشہ بڑھنے والی جماعت کو اپنے پیش نظر نصب العین رکھنا چاہیئے جب تک نصب العین سامنے نہ ہو۔جوش پیدا نہیں ہوتا اگر کسی کام کا ایک ایک حصہ سامنے آئے تو اس کام کی پوری اہمیت سامنے نہیں آسکتی نہ اس کے لئے جوش اور اخلاص پیدا ہو سکتا ہے۔اگر کسی طاقتور انسان کو معلوم ہو کہ اس کا ایک دشمن ہے تو وہ اس کا مقابلہ آسانی سے کر سکتا ہے اور بغیر مشقت اور تکلیف کے اس کو مار سکتا ہے۔اس وقت یہ خیال نہیں کرے گا کہ میں جلدی کروں لیکن جب ایک شخص کو معلوم ہو کہ میرا ایک نہیں چالیس دشمن ہیں تو وہ اپنی طاقت اور وقت دونوں کو سنبھالے گا اور اگر ایک ایک دشمن ان میں سے اس کے سامنے آئے تو اس سے مقابلہ کرتے ہوئے ۳۹ اور کا بھی خیال رکھے گا جو اس وقت تک پوشیدہ ہونگے۔اگر ایسا نہیں کرے گا تو کامیاب نہیں ہو گا۔ہمارے دشمن کئی قسم کے ہیں۔ایک غیر مسلم کہلاتے ہیں۔ہمارے دشمن کے یہ معنے نہیں کہ ہمیں ان سے دشمنی ہے کیونکہ مسلمان کسی کا دشمن نہیں ہوتا۔ہم تو ان کے خیر خواہ ہی ہیں۔بلکہ یہ کہ وہ لوگ جہالت سے ہمارے دشمن ہیں۔یہ لوگ ایک دو نہیں۔سینکڑوں مذاہب کے لوگ ہیں۔اگر چھوٹے چھوٹے مذاہب کو چھوڑ دیا جائے تو یہ موٹے موٹے مذاہب ہیں۔جن کے پیرو ہمارے دشمن ہیں۔عیسائی ہمارے دشمن۔ہندو ہمارے دشمن۔سکھ ہمارے دشمن۔زرتشتی ہمارے دشمن۔برہمو ہمارے دشمن۔بدھ ہمارے دشمن۔میٹرلسٹ یعنی دہریہ ہمارے دشمن۔سپر چولسٹ یہ وہ لوگ ہیں جو مُردوں کی روحیں بلوا کر اپنے خیال میں صداقت معلوم کرتے ہیں۔یہ بھی ہمارے دشمن ہیں۔غرض کوئی مذہب نہیں جس کے پیرو ہمارے دشمن نہ ہوں۔مگر ہم سب کو فائدہ پہنچانا چاہتے ہیں۔ہماری خواہش یہ ہے کہ وہ سب خدا کو پالیں۔لیکن وہ چاہتے ہیں کہ خود بھی خدا سے دور رہیں اور ہمیں بھی خدا سے دور کردیں۔وہ چاہتے ہیں کہ ہم کو جہنم میں ڈال دیں۔جنم وہ نہیں۔جو عقبیٰ میں ملے گا بلکہ اصل جنم وہ ہے جو خدا سے دوری کا جنم ہے۔کیونکہ اصل جنم خدا سے دور ہونا ہی ہے اور آخرت کا جنم اس کا نتیجہ ہے۔پس خدا کا بعد اصل میں جنم ہے۔اور لوگ چاہتے ہیں کہ خود بھی اس میں پڑے رہیں اور ہمیں بھی ڈالیں۔۔