خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 421 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 421

421 ہم کو بعض دفعہ روپیہ اس لئے خرچ کرنا پڑتا ہے۔کہ دنیا میں اسلام کی شان و شوکت ظاہر ہو۔اور اس کے نام پر جو دھبہ لگایا جا رہا ہو۔وہ مٹ جائے۔اگر ہم ہمیشہ اور صیغوں کا خیال رکھیں۔اسلام کی شان و شوکت کے لئے کچھ نہ خرچ کریں تو اس سے بھی اسلام کو نقصان پہنچے گا۔پس اسلام کی شان و شوکت کو ظاہر کرنے کے لئے بھی ضروری ہوتا ہے کہ اس کے لئے روپیہ خرچ کیا جائے۔چنانچہ ملکانہ میں جو ہم نے تبلیغ شروع کی ہے۔اس کی ایک غرض یہ بھی تھی کہ اسلام کے رعب اور شوکت کو مٹانے کے لئے آریوں نے جو شدھی کا سلسلہ جاری کیا تھا اسے روکا جائے۔اور اسلام کی شوکت کو مشتبہ نہ ہونے دیا جائے۔اس غرض کے لئے ہماری جماعت کو اپنا مال و جان اور وقت خرچ کرنا پڑا۔بڑی بڑی تکلیفیں اٹھائیں۔جس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا کہ سلسلہ کا نام ایک شان کے ساتھ شہرت پا گیا۔اور ایسے لوگوں کو جو پہلے اس کی طرف توجہ نہ کرتے تھے توجہ پیدا ہو گئی۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ ملکانہ تحریک کے بعد سے بہت سے لوگ سلسلہ میں داخل ہونے شروع ہو گئے ہیں۔غرض کبھی اسلام کی شہرت کے لئے بھی روپیہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔اور تکلیفیں اٹھانی پڑتی ہیں میرے ولایت جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس وقت جانا مناسب ہے یا نہیں اس وقت روپیہ کا سوال نہیں ہے اور اگر میں ولایت جانے کو ملتوی اس لئے کر دوں کہ یہ روپیہ قیموں پر خرچ ہو جائے۔تو میں کہتا ہوں اس طرح سلسلہ کی ترقی کا وہ پہلو چھوٹ جائے گا۔جو شہرت سے تعلق رکھتا ہے اور جو عظیم الشان ترقی کا باعث ہو سکتا ہے۔علاوہ ازیں اگرچہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ میرے جانے سے سب لوگ مسلمان ہو جائیں گے۔لیکن کم از کم یہ تو ضرور ہو گا کہ اسلام کی اصل تعلیم ان کے سامنے پیش ہو سکے گی۔پھر اگر ہم اس خط کے لکھنے والے کا کہنا مان کر یہ روپیہ قیموں کی تربیت پر خرچ کرنے کا ارادہ کریں۔تو کئی لوگ ایسے کھڑے ہو جائیں گے۔جو یہ مشورہ دیں گے کہ یہ روپیہ تبلیغ پر خرچ ہو۔قیموں کا گزارہ تو ہو ہی رہا ہے اور جب ہم ان کا کہنا مان کر تبلیغ پر خرچ کرنے کا ارادہ کریں گے تو کئی لوگ ایسے کھڑے ہو جائیں گے۔جو تعلیم سے محبت رکھتے ہوں گے اور یہ کہیں گے کہ روپیہ تعلیم میں خرچ ہو۔اس طرح خرچ کرنے کے متعلق فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا۔تو اب ہم کو سب صیغوں پر یکجائی نظر رکھنی چاہیئے اور کسی خاص پہلو پر زور نہیں دینا چاہیئے ورنہ سلسلہ پر تباہی آجائے گی اور اس صورت میں سلسلہ کو مضبوط سمجھنا ایسا ہی ہو گا جیسا کہ کہا جائے فلاں شخص خوبصورت ہے۔مگر اس کی آنکھ اندھی ہے۔یا ناک کٹا ہوا ہے پس سلسلہ اسی وقت تباہی سے بچ سکتا ہے۔جب تک کہ