خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 383

383 ہر زبان میں یہی کہا جاتا ہے۔اسی طرح چونکہ زمین اور آسمان پھٹنے کے قریب پہنچ گئے تھے۔کیونکہ خدا نے جو یہ فرمایا ہے کہ ایک انسان کو خدا کا بیٹا کہنے سے قریب ہے کہ زمین اور آسمان پھٹ جائیں تو یہ نہیں کہ خدا نے یونسی کہہ دیا۔بلکہ فی الواقعہ ایسی ہی حالت ہو گئی تھی۔لیکن ان کے پھٹنے سے پہلے خدا نے مریمی صفت انسان کو بھیجا تاکہ وہ اہنیت کے مسئلہ کو باطل کر کے روحانی زمین اور آسمان اور پہاڑوں کو دوبارہ قائم کرے۔اس آیت میں جسمانی اور مادی زمین و آسمان مراد نہیں ہیں اور نہ مادی پہاڑ مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کا تعلق عیسائیوں سے جو مسیح کو ابن اللہ کہتے ہیں۔بتایا گیا ہے اور عیسائیوں نے اپنے علوم اور سائنس کے ذریعہ مادی زمین و آسمان اور پہاڑوں کو اور زیادہ ترقی دی ہے۔پس اس آیت میں مادی زمین و آسمان اور پہاڑ مراد نہیں ہو سکتے۔یہ ایک پیش گوئی اور پیش گوئی میں استعارے اور کنائے استعمال ہوتے ہیں۔یہ روحانی زمین اور آسمان اور پہاڑ مراد ہیں۔اور اس میں کیا شک ہے کہ یہ روحانی زمین اور آسمان پھٹنے کے قریب تھے۔لیکن ایسا سامان پیدا ہو گیا جس نے ان کو ان کی جگہ پر دوبارہ قائم کر دیا۔اور حضرت مسیح موعود کا ایسا وجود آ گیا جس نے براہین اور دلائل سے ثابت کر دیا کہ مسیح جسے عیسائی خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔مرگیا ہے اور میں اس سے افضل ہوں۔تب روحانی زمین آسمان اپنی جگہ پر دوبارہ قائم ہوئے۔اور ایسا معلوم ہوا کہ گویا دوبارہ بنائے گئے ہیں۔یہی مطلب ہے اس کشف کا جس میں حضرت صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ میں خدا ہوں اور پھر میں نے زمین اور آسمان کے پیدا کرنے کا ارادہ کیا اور ان کو بنایا۔۲۰ یہ ایک کشف ہے اور قابل تعبیر ہے۔جیسے کہ سارے کشف اور رویا قابل تعبیر ہوتے ہیں۔چنانچہ تعطیر الا نام جو کئی سو سال کی کتاب ہے اور جس میں بڑے بڑے بزرگوں کی خوابوں کی بناء پر تعبیریں جمع کی گئی ہیں۔اس میں لکھا ہے کہ جو شخص خواب میں یہ دیکھے کہ میں خدا ہو گیا ہوں تو اس کی یہ تعبیر ہوتی ہے کہ خدا اس کو مل گیا اور وہ صراط مستقیم پر چل رہا ہے۔یہ تعبیر اس کتاب میں لکھی ہے۔جو ان علماء سے کئی سو سال پہلے کی ہے پس کشف میں مسیح موعود کے خدا ہونے کے یہ معنے ہوئے کہ اس زمانہ کے تمام لوگ گمراہ تھے صرف حضرت صاحب ہدایت یافتہ تھے۔اور آپ ہی توحید پر قائم تھے۔پھر آپ نے اس توحید کو جو خدا نے آپ کو دی تھی۔دنیا میں پھیلایا۔اور روحانی زمین و آسمان اور پہاڑ جو گرنے اور ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے قریب تھے۔ان کو