خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 38

" 38 بھی خرچ کے لئے نہ دیں گے۔اپنا اور اپنے اہل و عیال کا خرچ انہیں خود برداشت کرنا ہوگا۔جو لوگ اس طرز پر زندگی وقف کرنے اور اس علاقہ میں جانے کے لئے تیار ہوں وہ درخواستیں دیں۔ڈیڑھ سو آدمیوں کی ضرورت ہے۔وہاں کا خرچ کرایہ وغیرہ وہ سب خود برداشت کریں گے۔چاہے وہ پیدل سفر کریں یا سواری پر یہ ان کو اختیار ہے۔مگر ہم ان کے خرچ کا ایک پیسہ بھی نہ دیں گے۔سوائے ان لوگوں کو جن کو ہم خود انتظام کرنے کے لئے بھیجیں گے۔ان کو بھی جو ہم کرایہ دیں گے وہ تیسرے درجہ کا ہوگا۔چاہے وہ کسی درجہ اور کسی حالت کے ہوں اور اخراجات بہت کم دیں گے۔ان لوگوں کے علاوہ زندگی وقف کرنے والے خود اپنا خرچ آپ کریں گے۔اپنے اہل و عیال کا خرچ خود برداشت کریں گے البتہ ڈاک کا خرچ یا وہاں تبلیغ کا خرچ اگر کوئی ہوگا تو ہم دیں گے۔اس کے لئے جماعت کو پچاس ہزار روپیہ دینا ہو گا۔ایسے کاموں کے لئے جو تبلیغ وغیرہ کے ہوں گے باقی مبلغین اسی رنگ میں جائیں گے۔وہاں اپنے اخراجات خود اٹھائیں گے ان کے بال بچے ہوں یا اور متعلقین ہوں جن کا خرچ ان کو برداشت کرنا ہوتا ہے تو وہ خود خرچ کریں گے۔جو لوگ دفاتر میں کارکن ہیں، مدرس ہیں ہم ان کو چھٹی نہیں دلوائیں گے۔وہ اپنا انتظام خود کریں گے۔اگر کسی کی استحقاقی چھٹی ہو۔تو لے لے۔اگر فرلو مل سکتی ہو وہ لے۔غرض وہ اپنے لئے رخصت خود حاصل کریں گے۔ہم ان کے لئے کوئی نئے قواعد تیار نہیں کریں گے۔جس طرح اپنے دنیاوی کاموں کے لئے کسی کو رخصت کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ لیتا ہے اسی طرح وہ اب لیں۔اگر اس صورت میں کوئی جانے کے لئے اور زندگی وقف کرنے کے لئے تیار ہو تو چشم ما روشن دل ماشاد۔ورنہ کسی کے لئے ہم کوئی خاص قانون بنوانے کے لئے تیار نہیں۔جو لوگ ملازمتوں پر ہیں وہ اپنی رخصتوں کا خود انتظام کریں اور جو ملازم نہیں اپنے کاروبار کرتے ہیں کہ جس وقت چاہیں آزاد ہو جائیں۔وہ وہاں سے فراغت حاصل کریں اور ہمیں درخواست میں بتائیں کہ وہ چار سہ ماہیوں میں سے کس سہ ماہی میں کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔اس وقت جلدی اور اعلیٰ انتظام کی ضرورت ہے کیونکہ گوڈیڑھ سو آدمی کم ہیں مگر انتظام کے ماتحت کام انشاء اللہ تعالیٰ اچھا ہو گا۔دیکھا گیا ہے کہ یورپ کی چھوٹی فوجیں ایشیا کی بڑی بڑی فوجوں پر غالب آتی ہیں کیونکہ وہ ایک انتظام کے ماتحت ہوتی ہیں اور وہ انتظام بھی نہایت سخت ہوتا ہے جو شخص اس انتظام کے ماتحت ہو۔اس کو اختیار نہیں ہوتا کہ اُف بھی کرے۔ولایت کے انگریزی اخبارات میں یہ ایک لطیفہ شائع ہوا تھا کہ قطار میں ایک سپاہی کے متعلق افسر کو خیال ہوا کہ وہ ٹیڑھا چل رہا ہے۔افسر نے اس کو کہا کہ سیدھے ہو کے چلو۔اس نے اپنی چال درست کر لی۔اتنے میں پھر افسر کی ادھر توجہ ہوئی اور اس کو خیال ہوا کہ وہ ٹیڑھا ہی چل رہا ہے۔اس نے پھر اس کی