خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 374

374 صفات کو اپنے اندر لے لیتا ہے اور اس کے رنگ میں رنگین ہو جاتا ہے۔کسی قسم کے حوائج کی تکالیف اسکو نہیں ہوتیں۔اور نہ ہی اس کو دکھ دیتی ہیں جس طرح کہ خدا کو وہ نہیں ہوتیں۔غرض یہ کہ خدا کی صفات بندہ کو جنت میں ملتی ہیں۔اس دنیا میں نہیں ملتیں کیونکہ اگر یہاں بندہ خدا کی صفات کو اس طرح ظاہر کرے تو شرک کا ڈر ہے۔لیکن چونکہ قیامت میں شرک کا ڈر نہیں ہو گا۔اس لئے بندہ خدا کی صفات کا پورا مظہر ہو گا۔ہاں خدا اور بندہ میں یہ فرق ہو گا کہ خدا کی صفات ذاتی ہیں۔وہ صمد ہے بے نیاز ہے۔اس نے کسی اور سے صفات نہیں لیں۔لیکن بندہ صمد نہیں۔بلکہ محتاج ہے اور اس نے ان صفات کو خدا تعالیٰ سے حاصل کیا ہو گا۔اور وہ ہر دم اسی کا محتاج ہو گا۔یہ بیان کرنے کے بعد میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا تم خدا سے غنی ہو۔اور خدا کے محتاج نہیں ہو۔کیا تم نے انسان کی پیدائش کی غرض کو پورا کیا۔اور اس کے لئے کوشش کی ہے کہ اخدا کی صفات میں رنگین ہو جاؤ۔اس کو حاصل کر لو۔اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔اور اس کے حصول کے لئے تڑپتے رہو تم خوش قسمت ہو کہ تم نے خدا کے ایک نبی کو دیکھا اور اس کی صحبت سے فائدہ اٹھایا تمہیں خدا نے وہ نعمت دی جس کے لینے کے لئے دوسری قومیں تڑپتی ہیں لیکن ان کو نہیں ملی 1990 انیس سو سال گذرے کے عیسائیوں نے نبی کی شکل نہیں دیکھی۔۳۳ سو سال گذرے کہ یہودیوں نے خدا کے فرستادہ کا چہرہ نہیں دیکھا اور تیرہ سو سال گذرے کہ مسلمانوں نے کسی برگزیدہ کی صحبت سے فائدہ نہیں اٹھایا۔اس لئے تم جتنا اس نعمت کے حاصل ہونے پر خوش ہو کم ہے اور جتنی خوشی مناؤ تھوڑی ہے۔لیکن تمہارا خوش ہو لینا ہی کافی نہیں۔بلکہ تمہیں چاہیئے کہ اس نعمت کی قدر کرو اور اس آفتاب کی روشنی سے فائدہ اٹھاؤ۔اگرچہ دوسری قومیں اس آفتاب کے مقابلے میں چمگاڈروں کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ اس نور کی قدرو منزلت نہیں جانتیں۔اس لئے اس آفتاب کی روشنی سے چھپنا چاہتی ہیں۔کیونکہ ان کی آنکھیں بیمار ہیں۔اور ان میں طاقت نہیں کہ اس آفتاب کی روشنی کو دیکھ سکیں لیکن تم نے آفتاب کو دیکھا ہے۔اس کی روشنی کو ملاحظہ کیا ہے اس لئے میں تم سے پوچھتا ہوں کہ تم میں سے کتنے ہیں جن کی یہ خواہش ہے کہ ہم نے خدا کو ملنا ہے اور اس کی صفات کو اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔افسوس ہے کہ بہت کم لوگ ہیں۔جن کی یہ خواہش تو ہے اور پھر وہ بہت کم ہیں جن کی یہ خواہش ہے۔مگر وہ اس کے پورا کرنے کے لئے بے چین ہیں۔اکثر لوگوں کا وقت غفلت میں گذرتا ہے تم میں سے بہت ہیں جنہوں نے حضرت صاحب کے وعظ اور۔