خطبات محمود (جلد 8) — Page 373
373 ہو گا۔پس جب وہ ان تمام غرضوں کے پورا کرنے کے لئے تمہیں عبد بنانا نہیں چاہتا تو پھر وہ کون سی غرض ہے جس کے پورا کرنے کے لئے تمہیں کہتا ہے کہ میرے عبد بن جاؤ۔اس کا جواب یہ ہے کہ وہ اس غرض کے لئے تم کو عبد بنانا چاہتا ہے کہ تم اپنے فائدہ کے لئے نیک بنو اور اس کے لئے تذلل اختیار کرو اور اسی کے ہو جاؤ۔اسی کی طرف خدا تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے کہ تمہاری ائش کی غرض ہی یہ ہے کہ تم میرے عکس کو اپنے اندر جذب کرو اور میری صفات میں رنگین ہو جاؤ تا کہ میرے کہلاؤ اور اس گیلی مٹی کی طرح ہو جاؤ۔جس پر آسانی سے قسم قسم کے نقش پڑسکتے ہیں تاکہ تم پر خدا کا عکس پڑے اور اس کی صفات تمہارے اندر منقش ہو جائیں۔پرانے زمانہ میں یہ دستور تھا کہ کاغذوں کی قلت کی وجہ سے کتابیں مٹی پر لکھی جاتی تھیں۔چنانچہ اب بھی ایسی مٹی کی تختیاں ملتی ہیں۔جن پر مختلف کتابیں لکھی ہوئی نہیں۔پس تم گیلی مٹی ہو جاؤ۔تاکہ تم پر میرے جلال کا عکس پڑے۔اور میں تم کو اپنا نشان نینا سکوں اور تم میرے ظہور ہو اور ان لوگوں کے لئے نمونہ بنو جو ابھی تک عبد نہیں بنے۔وہ تمہارے اندر میرے نشانات دیکھیں اور میری صفات کو ملاحظہ کریں تاکہ ان کو یہ معلوم ہو کہ جب خدا کے وہ بندے جو اپنے اندر اس کی صفات جذب کئے ہوئے ہیں۔اس قدر رحم دل اور شفیق ہوتے ہیں تو وہ خدا کیسا شفیق اور محبت کرنے والا ہو گا جس کے یہ آئینہ ہیں۔اسی کی طرف بائبل میں اشارہ ہے کہ انسان کو خدا نے اپنی شکل پر پیدا کیا۔(پیدائش) تاکہ خدا اپنے صفات اپنے بندے کے اندر جلوہ گر کرے اور اس کو دوسرے بندوں کے لئے بطور نمونہ ظاہر کرے جس کی وہ تقلید کریں۔جب بندہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے لئے اسوہ حسنہ ہو۔تو تمام گناہوں سے نجات پالیتا ہے اور اس کو وہ مقام حاصل ہو جاتا ہے۔جس کی طرف قرآن شریف میں خدا تعالیٰ اس طرح اشارہ فرماتا ہے : فادخلی فی عبادی و ادخلی جنتی (الفجر: ۳۱) که چونکہ تو میرا عبد بن گیا ہے اور میری صفات کا جلوہ گاہ ہو گیا ہے۔اس لئے اب تو میرے مقام پر کھڑا ہو سکتا ہے اور میرا مقام وہ مقام ہے جس میں کسی قسم کی احتیاج انسان کو دکھ نہیں دیتی نہ بھوک اس کو ستاتی ہے نہ پیاس اس کو تنگ کرتی ہے۔اور نہ ہی اس کو فنا ہونے کی خلش دامنگیر ہوتی ہے۔اس کے ساتھ کن فیکون کا معالمہ کیا جاتا ہے۔جیسا کہ فرمایا لھم مايشاءون فيها ولدينا مزيد (ق : ۳۶) یعنی جو وہ چاہیں گے۔ان کو مل جائے میں اور یہی مفہوم کن فیکون کی آیت میں ادا کیا گیا ہے۔جو کچھ خدا کہتا ہے ہو جاتا ہے۔غرض کہ مرنے کے بعد اس مقام پر پہنچ کر انسان خدا کی