خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 356

356 اور خیانت اور بد دیانتی نے پیش نہیں آتے۔باوجود یکہ ایسا نہیں ہوتا۔پھر بھی جب ہم تبلیغ کرتے ہیں۔علی الاعلان کرتے ہیں اور دوسروں کے مقابل پر کرتے ہیں اور پھر جو ہم سے بیعت کرنا چاہتا ہے۔اس کہتے ہیں۔ابھی ٹھہرو اور سمجھو اور لوگوں سے پوچھو۔تاکہ بعد میں ٹھو کر نہ کھاؤ۔پھر لکھتا ہے " عجیب تریہ کہ جناب میاں صاحب نے اپنے مریدوں میں کہا کہ تین روز تک یہ لوگ مجھ سے جو چاہیں دریافت کر سکتے ہیں۔لیکن ہمیں کوئی باقاعدہ اطلاع نہیں دی گئی۔" یہ بالکل افترا ہے کہ میں نے کوئی ایسا اعلان کیا تھا۔جس وقت ان کے فیصلہ کی تجویز ہوئی۔تو میری یہی رائے تھی کہ ان کو مہلت دی جائے تاکہ اگر وہ کچھ پوچھنا چاہیں تو پوچھ لیں۔مگر دوستوں نے کہا کہ ہم اس وقت ان کے مقدمہ کا فیصلہ کرنے کے لئے بیٹھے ہیں اور ان کے لئے سزا تجویز کرنی ہے ان کو موقعہ دینا یا نہ دینا اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ہاں اگر وہ درخواست کریں۔تو پھر ان کے لئے کوئی آدمی مقرر کر دیا جائے۔ان کی یہ دلیل عقلا درست تھی۔اس لئے میں نے ان کی رائے کو تسلیم کیا۔یہ تو محفوظ الحق اور اللہ دتا کے متعلق تھا۔مہر محمد خان کو بلا کر کہا گیا کہ اگر کچھ پوچھنا ہو تو پوچھ لو اس نے کہا مجھے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔میری پوری طرح تسلی ہو چکی ہے۔کیا صر محمد خاں بالکل ساکت ہو گیا تھا۔اس نے جا کر ان کو نہ کہا ہو گا۔اگر کہا ہو گا۔تو یہ کیسا جھوٹ ہے کہ ہم کو موقعہ نہیں دیا گیا۔جب ان میں سے ایک کو بلا کر کہا گیا کہ ہم آدمی مقرر کر سکتے ہیں۔لیکن اس نے انکار کیا اور سمجھنا نہ چاہا۔تو یہ کہنا کہ ہمیں موقع نہیں دیا گیا کب درست ہو سکتا ہے۔مہر محمد خاں کو مجلس فیصلہ میں بلا کر جب پوچھا گیا کہ کچھ پوچھنا ہے تو اس نے کہا کہ میری پوری تسلی ہو گئی ہے۔کہا گیا کہ بعض دفعہ انسان کو فیصلے میں غلطی لگ جاتی ہے پوچھنے کا فائدہ ہو جاتا ہے۔اس نے کہا مجھے ہر گز پوچھنے کی حاجت نہیں۔میں نے جو فیصلہ کیا ہے۔وہ درست ہے۔مگر باوجود اس کے کہا جاتا ہے کہ ہمیں بتایا نہیں گیا۔اور کون سا طریق ہے جس سے ان کو بتایا جاتا جو فیصلہ سنایا گیا تھا وہ تو سزا کے متعلق تھا۔اگر انہوں نے کچھ پوچھنا تھا۔تو خود کہتے اگر ہم انکار کرتے تو یہ کہنے کا حق تھا کہ ہمیں موقعہ نہیں دیا گیا۔یہ ان کا کام تھا نہ کہ ہمارا۔یہ خط شروع سے اخیر تک تمام کا تمام جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔پھر لکھا ہے۔”قادیانی گروہ میں کئی دوسرے لوگ بھی اسی رنگ میں رنگے جاچکے ہیں۔" یہ بھی محض فریب اور جھوٹ ہے جو ان کے اثر کے نیچے تھے۔وہ ہمیں معلوم ہیں۔خفیہ سوسائٹیاں بھائی کو بھائی پر شک و شبہ میں ڈالنے کے لئے ہمیشہ ایسا ہی کہا کرتی ہیں۔پیغامی ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ