خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 351

وجوہ بچشم خود نظر آگئے ہیں۔" 351 وہ وجوہ آگے بیان کی ہیں۔اسی لئے اس جگہ ان کا جواب دوں گا۔پھر لکھا ہے۔”ہم حضرت صاحب کو نبی نہیں مانتے۔مگر عجیب بات یہ ہے کہ یہاں بیان میں اس نے لکھایا ہے کہ حضرت صاحب ایک رنگ میں دعویٰ نبوت میں صادق تھے۔اور پھر گواہوں نے بڑے تواتر سے کہا کہ وہ جانے سے چار پانچ دن ہی پہلے یہ کہتا تھا کہ محمد علی کی عقل کو کیا ہو گیا ہے۔جو نبوت سے انکار کرتا ہے۔نبوت سے تو کوئی انکار کرہی نہیں سکتا۔مگر قادیان سے جانے کے بعد لکھتا ہے کہ میں حضرت صاحب کو نبی نہیں مانتا۔اس میں بھی کس قدر دھوکہ دیا ہے۔یہ نہیں لکھا کہ میں چونکہ بہاء اللہ کو مانتا ہوں۔اس لئے حضرت صاحب کو نبی نہیں مانتا۔بلکہ یہ لکھا ہے۔کہ ہم حضرت صاحب کو نبی نہیں مانتے۔تاکہ اس طرح مولوی محمد علی صاحب خوش ہو جائیں کہ ہماری تصدیق کر رہا ہے حالانکہ اس کے معنے یہ ہیں کہ میں مرزا صاحب کو بھی کیونکر مان سکتا ہے۔جب کہ بہاء اللہ کا معتقد ہوں اور یہ اس کے خلاف ہے۔اس کا پہلے بھی یہی عقیدہ تھا۔مگر ہم میں جذب ہونے کے لئے اور شامل رہنے کے لئے کہتا رہا کہ مرزا صاحب نبی تھے۔اب ان میں شامل ہونے کے لئے یہ کہہ دیا کہ ہم مرزا صاحب کو نبی نہیں مانتے۔حقیقتاً وہ مرزا صاحب کو نہ نبی اور نہ راستباز سمجھتا ہے۔پھر لکھتا ہے۔"آپ کے انکار کے باعث مسلمان کو کافر نہیں کہتے ہیں۔" مرزا صاحب کے انکار سے کیونکر کافر ہونا تھا وہ تو اس کے نزدیک بہاء اللہ کے انکار کی وجہ سے کافر بن چکے ہیں۔مگر پڑھنے والوں کو دھوکا دینے کے لئے یہ لکھ دیا کہ مرزا صاحب کے انکار کے باعث ہم مسلمانوں کو کافر۔نہیں کہتے۔گویا ان کو پکا مسلمان سمجھتے ہیں۔حالانکہ اصل مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ تو باب اور بہا اللہ کے انکار سے کافر قرار پا چکے۔باب نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ جو میری کتابوں کا انکار کرتا ہے۔وہ کافر ہے۔جو آج سے قریباً سو سال پہلے کا فربن چکے ہیں۔ان کے دوبارہ کافر بننے کے معنے ہی کیا ہیں۔پھر لکھا ہے۔”غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز سمجھتے ہیں یہ غیر احمدیوں کی خصوصیت بھی محض دھوکہ دینے کے لئے ہے۔یہ لوگ تو عیسائیوں کے گرجے میں جانا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا بھی جائز سمجھتے ہیں۔بہائی تعلیم کی رو سے غیر احمدی کیا کسی گرجے میں عیسائی کے پچھے بھی نماز جائز ہے۔چنانچہ ان کے مبلغ یورپ اور امریکہ میں ایسا ہی کرتے ہیں۔