خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 346

346 اور غضب کے موقعہ پر غضب کا اظہار کریں۔تب جا کر وہ خوش خلق کہلا سکیں گے۔ایک پہلو کو بالکل ترک کر دینا اور ایک پر زور دینا خوش خلقی نہیں۔تم قشر سے دنیا اور واقعات کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔تم اس سے اپنے نفس کو خوش کر سکتے ہو۔مگر نتائج تم کو آگاہ کر دیں گے پس تم اس پر خوش مت ہو۔اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے اور اپنی محبت کو ہمارے اندر داخل فرمائے۔ہماری نفسیات اور ذاتی عزت مٹ کر سب کچھ خدا کے لئے ہی ہو جائے۔ہم خدا میں ہو کر خدا کے لئے بن جائیں۔ہم میں اس کے رسولوں کے لئے غیرت محبت اور جوش پیدا ہو۔اور ان کی صحیح اور سچی محبت ہم میں پیدا ہو۔جس سے خدا کی رضا حاصل ہو۔اور بندوں کی اصلاح ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے توفیق بخشے آمین حضور نے دوسرے خطبہ میں فرمایا۔کہ میں دو باتیں کہنی چاہتا ہوں۔ایک تو یہ کہ کل میں نے کہا تھا کہ کل لیکچر کا اگلا حصہ بیان کروں گا۔مجھے معلوم نہ تھا کہ کل جمعہ ہے۔اس لئے وہ لیکچر آج نہیں ہو گا۔بلکہ کل عصر کے بعد ہو گا۔دوسری بات یہ ہے کہ ایک نہایت مخلص دوست تر گڑی کے شاعر محمد اسماعیل صاحب فوت ہو گئے ہیں۔بہت جوش اور اخلاص رکھنے والے تھے۔ان کی بعض نظموں نے تبلیغ میں بہت مدددی ہے۔حضرت مسیح موعود نے ان کی کتاب چٹھی مسیح کو بہت پسند کیا تھا۔حقہ کے بہت دشمن تھے۔اس کے متعلق ہمیشہ بحث کیا کرتے تھے۔اور کہتے تھے کہ اگر آپ نے یہ عیب نہ مٹایا تو کیا مٹایا۔گو ایک بات پر ہی زور دینا اصل دانائی نہیں۔لیکن ان کی غیرت ایمانی اور بدی سے نفرت کی وجہ سے ان کا یہ اصرار بھی بہت اچھا لگتا تھا۔میں نماز کے بعد ان کا جنازہ پڑھوں گا۔باقی دوست بھی شامل ہوں۔الفضل ۴ اپریل ۶۱۹۲۲ حضرت کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھی جو باوجود اخلاص کے غزوہ تبوک میں شامل نہ ہو سکے شد ابن حیان و طبرانی تھے (بخاری کتاب المغازی حدیث کعب بن مالک)