خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 329

329 گی۔جن کو وہ پہلے نہیں سمجھتے تھے۔میں افسوس سے کہتا ہوں۔اور اس لئے کہتا ہوں کہ جس مقام پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے۔اس کے لحاظ سے مجھے کہنے کا حق ہے کہ دیکھو میں نے کہا تھا کہ تم سلطنت ٹرکی کے متعلق ایسا نہ کرو۔مگر تم نے وہی کیا۔اب اس کی خوفناک غلطی تم پر ظاہر ہو گئی۔میں یہ بات کہہ سکتا ہوں اور دوسرا نہیں کہہ سکتا اب بھی وہ راستہ کھلا ہے۔جو خدا نے کھولا تھا اس آواز کو سنیں جو خدا کے مامور نے بلند کی اس آواز کے مقابلہ میں کوئی آواز نہیں ٹھہر سکتی۔اب کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔جس کی گردن میں مسیح موعود کی اتباع کا جوا نہ ہو۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اختیارات حضرت مسیح موعود کو ملے۔اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں جذب ہو کر ملے ہیں۔اب اسی کو خلافت مل سکتی ہے جو مسیح موعود میں ہو کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستہ ہو۔جس وقت حسین کامی قادیان میں آیا تھا۔اس وقت حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ میں کشفی نظر سے دیکھتا ہوں کہ سلطان کے دربار میں کچھ کچے دھاگے ہیں جو نازک وقت پر ٹوٹ جائیں گے۔۲۰ چنانچہ وہ ٹوٹ گئے اور سلطان کو بھی لے کر غرق ہو گئے۔یہ کیسی عظیم الشان خبر تھی۔جو پوری ہوئی۔اور پندرہ سال کے عرصہ میں متعدد بار پوری ہو چکی ہے۔پہلے سلطان عبدالحمید خان کے وقت میں پوری ہوئی پھر موجودہ خلیفہ سے پہلے کے وقت میں پوری ہوئی اور اب پھر پوری ہوئی۔جبکہ خلافت ٹوٹ گئی اور خدا کی بات پوری ہو گئی۔ہمارے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک ایسے گاؤں میں رہنے والے جو سٹیشن سے بھی گیارہ میل دور ہے۔سیاست کو کیا سمجھ سکتے ہیں۔ہم کہتے ہیں دیکھو سٹیشن سے میل پرے رہنے والے کی بات پوری ہوئی۔اس لئے کہ اس میں صداقت بھری ہوئی تھی۔سیاست دان بے خبر رہے۔مگر وہ جسے سیاست سے بے خبر کہا جاتا تھا۔اس کی بات کچی نکلی۔اگر اس کی بات مانی جاتی۔تو آج سیاست دان منہ کے بل نہ گرتے۔اب بھی مسلمانوں کے لئے موقع ہے کہ سمجھ سے کام لیں اور ٹوٹنے والے ناگوں کی نظیر سے فائدہ اٹھائیں جیسا کہ مولوی رومی نے کہا ہے۔ہر بلا کیں قوم را حق داده اند و زیر آن گنج کرم بنهاده اند اس وقت تمام جہان کی نگاہ ہندوستان پر پڑ رہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آئندہ ترقی کا سامان ہندوستان کی طرف سے ہو گا۔اس بات کو کوئی مانے یا نہ مانے ہندوستان کی طرف توجہ کا ہونا