خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 315

315 ان کی کوئی کتاب تحفہ کے طور پر لائیں۔وہ اور ان کے ساتھی کئی گھنٹے مرزا صاحب کے متعلق گفتگو کرتے رہے۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ میں تھوڑے عرصہ بعد جب وہاں گیا اور ان سے ملاقات ہوئی تو سب سے پہلے انہوں نے یہی سوال کیا کہ تم کتاب لائے ہو میں نے کہا کہ میں تو ابھی ہندوستان گیا نہیں۔اس لئے میں نہیں لا سکا۔یہ سن کر ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں۔پھر میں ایک دفعہ ان سے ملا اور انہوں نے پہلی طرح ہی سوال کیا کہ ہمارے لئے کیا تحفہ لائے ہو۔مجھے ان کی بات بھول گئی تھی۔اس لئے میں نے جواب دیا کہ میں مشک نافہ تحفہ کے طور پر لایا ہوں۔انہوں نے نہایت افسردہ ہو کر کہا کہ ہم نے اس تحفہ کو کیا کرنا ہے۔ہم تو اس تحفہ کے یعنی احمد کی کتاب کے خواہشمند تھے۔اب دیکھو کہ ان واقعات سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح غیر ممالک میں احمدیت کے لئے جوش پیدا ہو رہا ہے۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ میں ایک دفعہ ابی سیدنیا بھیجا گیا وہاں ایک شخص ملا جو ابی سیدنیا کے بادشاہ کا بھائی تھا۔وہ لوگ چونکہ کوئی دین نہیں رکھتے تھے۔اس لئے میں نے کہا کہ تم کوئی دین کیوں نہیں اختیار کرتے۔اس نے کہا کہ ہم میں ایک بڑا آدمی گذرا ہے۔اس نے ایک کتاب لکھی تھی۔جس پر ہماری قوم عمل کرتی تھی۔اس کتاب کو اتفاقا " ایک گائے کھا گئی جس کی وجہ سے اب تک وہم کے طور پر ہم میں یہ رواج پڑا ہوا ہے کہ جب کوئی گائے بیچے تو وہ خریدار سے اس وعدہ پر بیچتا ہے کہ جب کبھی اس گائے کو ذبح کرو۔تو اس کا پیٹ چاق کر کے کتاب کو دیکھنا۔پھر اس نے ایک اور بات بتائی تھی کہ ہمارے اس بزرگ نے یہ کہا ہوا ہے کہ جب تمہارے پاس سے وہ کتاب ضائع چلی جائے اور تم اس کی ہدایت پر عمل نہ کر سکو۔تو اس وقت مشرق کی طرف سمندر پار ایک آدمی قودی میں ہو گا۔اس کی بات کو ماننا ہو گا۔اور اسی کی ہدایت پر چلنا۔وہ صاحب لکھتے ہیں کہ اس وقت تو میرا ذہن اس طرف نہیں گیا کہ قودی سے مراد قادیان ہے لیکن بعد میں میرا ذہن اسی طرف گیا کہ قودی سے مراد قادیان ہے۔ان باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا صداقت کے قبول کرنے کے لئے کس قدر تڑپ رہی ہے اور اس کی یہ تڑپ نہیں پوری ہو سکتی۔جب تک موجودہ تہذیب کے انتظام کو چھوڑ کر وہی مجنونانہ طریق نہ اختیار کیا جائے۔جو آج سے تیرہ سو سال پہلے صحابہ نے اور پھر ان کے بعد دیگر اولیاء نے اختیار کیا تھا اور وہ یہ کہ کفنی پہن کر نکل جائیں۔اسی وجہ سے بہت سے انبیاء نے یہ شرط لگائی تھی کہ جو مبلغ ہو وہ مانگ کر کھائے۔حضرت عیسی نے بھی یہ شرط لگائی تھی کہ مبلغ مانگ کر کھائیں۔