خطبات محمود (جلد 8) — Page 253
253 43 حسن ظنی میں ترقی کا راز فرموده ۳۰ / نومبر ۱۹۲۳) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔دنیا میں بعض باتیں بہت چھوٹی سمجھی جاتی ہیں لیکن عمل میں وہ بڑی ہوتی ہیں۔بعض بہت چھوٹے اصل ہیں ان کو جب بیان کیا جاتا ہے تو سننے والے کے دل پر بوجہ ان کی اہمیت کا خیال نہ ہونے کے یا روز سننے کے ذہن سے ان کی وقعت نکل جاتی ہے یا سننے والا اس سے واقف نہیں ہوتا اس لئے اس کا ایسا چھوٹا اور خفیف اثر ہوتا ہے گویا ایک ادنی بات سنائی گئی۔لوگوں کے قلوب اس کے تاثر سے انکار کر دیتے ہیں اور دراں حالیکہ اگر غور سے دیکھیں تو دنیا کے کارخانے ہی اس پر چل رہے ہوتے ہیں۔اگر ان کو چھوڑ دیا جائے تو دنیا میں ہلاکت آجاتی ہے۔ان چھوٹے اصول میں سے جو دراصل بڑے ہیں ایک اصل پر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں، جس پر گو پہلے بھی کئی دفعہ توجہ دلا چکا ہوں۔مگر میں افسوس سے کہتا ہوں کہ اسے ستی یا غفلت یا امور محمہ میں غور نہ کرنے کی عادت کہنا چاہئیے جس کی وجہ سے اس پر غور نہیں کی گئی۔دنیا کا امن اسی پر منحصر ہے اس کو مد نظر رکھنے سے دنیا میں امن ہوتا ہے لیکن بوجہ اس کے کہ اس بات کو لوگوں نے اخلاق میں داخل کیا ہوا ہے۔اس لئے لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔بلکہ الٹا اس خلق کو تباہی کا موجب سمجھتے ہیں۔حالانکہ یہ بات تباہی کا موجب نہیں ترقی کا موجب ہے۔دنیا کے امن کا کارخانہ اس سے چلتا ہے وہ کونسی بات ہے جو اس قدر اہم ہے وہ حسن ظن ہے جس قدر حس ظن سے تمسخر کیا جاتا ہے۔کسی اور بات سے نہیں کیا جاتا۔دنیا میں کوئی شخص نہیں جو قتل و غارت کو ترجیح دیتا ہو۔قاتلوں کو بھی یہ کہتا سن سکتے ہو کہ قتل بری چیز ہے۔دوسروں کا مال کھانا برا سمجھا جاتا ہے۔مگر کئی ہوں گے جو خود خائن ہوں گے مگر خیانت کی مذمت کریں گے۔بہت ہوں گے جو جھوٹ بولنے کو برا کہیں گے مگر ان میں سے کئی جھوٹ بولتے ہوں گے۔لیکن اس کے مقابلہ میں حسن ظنی ایک ایسی چیز ہے جو اچھی ہے مگر اکثر لوگوں کو اس کے خلاف کہتے سنو گے حالانکہ ان میں سے اکثر ہوں گے جو حسن ظن پر عمل کر رہے