خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 238

0238 پھر میں کارکنوں کو ایک یہ بھی نصیحت کرتا ہوں کہ انسان خود اپنی عقل سے اپنے کام کو پورے طور پر نہیں سمجھتا اگر اپنی عقل سے سمجھنے لگے تو بیسیوں باتیں ان سے رہ جائیں گی۔اس لئے یہاں کے کارکن دوست ابھی سے بیرونی دوستوں کی طرف چٹھیاں لکھ کر ان سے پوچھیں کہ ان کو رستہ میں اور یہاں کیا کیا مشکلات پیش آتی ہیں اور ان کو دور کرنے کا کیا ذریعہ ہے اور کیا تدابیر ہیں گویا مشکلات بھی ان سے پوچھیں اور ان کے دور کرنے کی تجاویز بھی ان سے دریافت کریں۔یہ تمام کام ایسے ہیں جن کے لئے ابھی سے تیاری کرنی ضروری ہے۔اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہوں گا کہ افسر بھی انتظام نہیں کر سکتے جب تک کہ دوسرے لوگ ابھی سے اپنے آپ کو خدمت کے لئے پیش نہ کریں۔اس لئے جو لوگ اپنے آپ کو جلسہ میں کام کرنے کے لئے پیش کر سکتے ہیں وہ ابھی سے پیش کریں۔اس سے میری مراد یہ نہیں ہے کہ بعض نہ پیش کریں تو حرج نہیں بلکہ اس سے مراد وہ تاجر ہیں جو جلسہ پر اپنی دوکان لگا کر سال بھر کا خرچ پیدا کرتے ہیں۔پس سوائے تاجروں کے باقی تمام اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہیں۔کارکن افسروں کو چاہیے کہ ابھی سے کام کرنے والوں کے جتھے بنا کر ان کو کام کرنا سکھائیں۔میں امید کرتا ہوں کہ اگر اسی طرح دوست کام کریں گے تو پہلے سے بہت زیادہ اپنے کام میں کامیاب ہوں گے۔الفضل ۱۱۶ نومبر ۱۹۲۳)