خطبات محمود (جلد 8) — Page 221
221 لوگ سارے کے سارے کام کے لئے جمع نہ ہوں اور تن دہی سے کام نہ کریں۔اس وقت تک وہ قوم اپنے اغراض و مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔جس طرح یہ ممکن نہیں کہ تم میں سے ایک آدمی دو آدمیوں کا کام کر سکے۔اسی طرح صرف مولویوں اور خاص مبلغین پر یہ امید رکھنی کہ وہی اسلام پھیلائیں گے اور دنیا کو مسلمان کریں گے۔یہ درست نہیں۔ہماری جماعت کے سب کے سب لوگ اگر تبلیغ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں تو بھی ان کی تعداد اس قدر نہیں کہ ساری دنیا کو تبلیغ پہنچا سکیں چہ جائے کہ چند آدمیوں پر اس کام کا انحصار رکھا جائے۔بیشک دنیا کے کناروں تک احمدیت کا نام پہنچ گیا ہے لیکن اکثر مقامات پر مخالفین کے ذریعہ پہنچا ہے جنہوں نے احمدیت کو بگاڑ کر پیش کیا ہے۔اور دنیا میں کوئی آدمی حق کو نہیں قبول کو سکتا جب تک اسی صورت میں حق کو نہ پیش کیا جائے کہ جس صورت میں لوگ حق کو قبول کر سکتے ہیں۔ایک جنگل میں بیٹھا ہوا شخص باوجود شدید پیاس کے پانی نہیں پی سکتا۔اور اسی طرح وہ پانی جس میں زہر ملا ہوا ہو۔اس کو بھی نہیں پی سکتا کیونکہ وہ زندگی چاہتا ہے اور اس پانی کے پینے پر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔پس ہدایت اسی طرح پھیل سکتی ہے کہ لوگوں تک پہنچائی جائے اور اسی صورت میں کہ جس میں لوگ اس کو قبول کر سکتے ہیں۔اب دیکھ لو کہ ہمارے پاس جو مولوی ہیں کیا وہ دنیا کے ہر فرد کے پاس پہنچ سکتے ہیں پندرہ نہیں مبلغ تو پندرہ میں ہزار تک بھی ہدایت نہیں پہنچا سکتے۔اگر یہ کہو کہ۔ساری دنیا سلسلہ کے نام سے واقف ہے۔میں کہتا ہوں کہ کیا پیاسے کو صرف پانی کا پتہ ہونا پیاس سے بچا سکتا ہے۔یا وہ پانی اس صورت میں پی سکتا ہے جب کہ اسے یہ کہا جاتا ہو یا اس کو شبہ ہو کہ اس پانی میں زہر ملا ہوا ہے۔لوگوں کے سامنے پانی تو رکھا گیا ہے لیکن ایسی صورت میں وہ پیش کیا گیا ہے کہ ان میں سے بیشتر حصہ کو وہ دشمنوں کے ہاتھوں سے پہنچا ہے۔دشمن کہتے ہیں کہ یہ شخص جس نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا جھوٹا ہے۔مفتری ہے۔اس کی جماعت کے لوگ نہ روزہ رکھتے ہیں نہ نماز پڑھتے ہیں نہ حج کرتے نہ زکوۃ دیتے ہیں۔ان کا کوئی اور ہی مذہب ہے۔اب ایسی صورت میں وہ کب ہدایت کو قبول کر سکتے ہیں۔پس یہ بھی غلط ہے کہ تمام دنیا میں چند مولوی سلسلہ کو پہنچا سکتے ہیں اور یہ بھی غلط ہے کہ مخالف لوگ صحیح طریق پر احمدیت پہنچا رہے ہیں۔اگر کوئی شخص کہے کہ ہم سارے مل کر بھی تو ساری دنیا تک ہدایت نہیں پہنچا سکتے تو ہم کہتے ہیں کہ کم از کم ہم خدا کے حضور تو سر مجرد ہونے کے لئے کہہ سکتے ہیں کہ جہاں تک ہم پہنچا سکتے تھے۔وہاں تک ہم نے اپنی طرف سے ہدایت کو پہنچا دیا۔پھر جب ساری کی ساری جماعت حق کو پہنچائے گی اور اس صورت میں پہنچائے گی کہ جس صورت میں دنیا حق کو مان سکتی ہے تو اگلے سال اور جماعت ہمارے ساتھ شامل ہوگی۔پھر اس سے اگلے سال اور پھر اور یہاں تک کہ دنیا کا کثیر حصہ حق کی طرف آجائے گا۔