خطبات محمود (جلد 8) — Page 192
-192 کیا اس بات کا خیال کر کے تمہارے اندر درد نہیں پیدا ہوتا۔تم اپنی موجودہ حالت کو نہیں دیکھتے اور تم نہیں جانتے کہ تمہاری کیا حالت ہے اور تمہارا کیسا مستقبل ہے۔تم سمجھتے ہو کہ تم بہت کام کر رہے ہو حالانکہ تم کچھ نہیں کر رہے۔وہ اور ہی ذرائع ہیں جن سے کام ہو رہا ہے اور تم ان ذرائع اور ان ہاتھوں کو نہیں جانتے جو اصل میں کام کر رہے ہیں۔ان ذرائع کو جو کام کر رہے ہیں اگر کھینچ لیا جائے تو تم کچھ بھی نہیں کرتے اور تمہارا مستقبل نہایت ہی خطرناک و تاریک ہے۔دیکھو باقی قومیں تو اپنے نام تبدیل کر کے قائم رہ سکتی ہیں لیکن تم اپنا نام تبدیل کر کے قائم نہیں رہ سکتے۔آریہ لوگ تھے جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کی ہستی خطرہ میں ہے تو انہوں نے اپنا نام چھوڑ کر ہندو نام اختیار کر لیا۔مگر تم بتاؤ کہ تم اپنی زیست کے لئے کیا انتظام کرو گے۔آریوں نے تو کہدیا کہ ہم آریہ نہیں۔کیا تم بھی کہہ سکتے ہو کہ ہم احمدی نہیں۔جس وقت تم احمدیت سے انکار کرو گے اسی وقت تمہارا خدا سے جو تھوڑا بہت تعلق ہے قطع ہو جائے گا اور تم اس طرح ہو جاؤ گے جیسے سمندر میں اڑتا ہوا پتا۔یا اس شخص کی طرح ہو جاؤ گے جو ایک اعلیٰ مقام سے گر کر تحت الثریٰ میں چلا جائے کیونکہ تمہاری اغراض تو تمہارے نام کے اندر ہی پوشیدہ ہیں۔اس کو چھوڑ کر تم کس طرح کامیاب ہو سکتے ہو آریہ خواہ اپنے آپ کو آریہ نہ بھی کہیں تب بھی قائم رہ سکتے ہیں اور وہ اپنے نام کی تبدیلیوں سے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں لیکن تم نہیں بچا سکتے۔پس ذرا تو اس بات کو سوچو کہ آخر تم کس بات پر مطمئن ہو۔جب تک تم میں سے ہر شخص اپنے ذاتی آرام اور ذاتی فوائد کو قربان نہ کرے تب تک تم کسی طرح بھی محفوظ نہیں ہو سکتے۔اور جب تک اس قسم کے وجود تیار نہ ہوں۔جن کے اطوار و عادات سلسلہ کے مطابق ہوں تب تک تم ترقی نہیں کر سکتے۔پس اس وقت کو پہچانو اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔تم اپنے اندر کی روح کو پیدا کرو کہ جس سے خدا کے فضل لمبے ہو جائیں۔خدا اس وقت اپنے فضلوں کو کھینچ لیتا ہے جب اس کے بندے ان فصلوں سے فائدہ نہ اٹھائیں۔وہ ایک زمانہ تک مہلت دیتا ہے کہ یہ بندے خود کچھ کریں تب میں فضل کروں۔لیکن جب انسان کچھ نہ کرے تو خدا کے فضل سے محروم ہو جاتا ہے۔میں نے پچھلے دنوں میں منذر خواہیں دیکھی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ جماعت پر کچھ ابتلا آنے والے ہیں۔افسوس ہے کہ میں مثالوں کے ساتھ اس مضمون کو واضح نہیں کر سکتا۔ورنہ تمہیں بتاؤں کہ تم میں قربانی کا وہ مادہ نہیں جس کی ضرورت ہے۔پس خدا کے فضلوں کے چھینے جانے سے اپنی حفاظت کرو۔اور یاد رکھو جو شخص سلسلہ کی حفاظت کرتا ہے خدا اس کا محافظ ہو جاتا ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالی ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے خدا کے تازہ انعامات کے مستحق نہیں نہ یہ کہ پہلے انعاموں کو بھی ہاتھ سے کھو بیٹھیں اور کبھی اس کی ناراضگی