خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 165 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 165

165 کے سوا اور کوئی روک نہیں ہو سکتی اور نہ کسی وسیلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔اور ان دو روکوں کے متعلق خدا تعالیٰ نے کہدیا ہے کہ جو میرے پاس آنا چاہتے ہیں انہیں بتادو میں رحمان ہوں اپنے پاس پہنچنے کے سارے سامان میں نے بغیر انسان کی خواہش اور ارادہ کے مقرر کر دیئے ہیں۔اب سامان تو میسر ہو گئے مگر کوئی کہہ سکتا ہے کہ جب تک مسیح، کرشن ، شوچی، آگ، سورج، زرتشت و غیره نه کہدے کہ فلاں کو اپنے پاس آنے دیا جائے۔اس وقت تک دروازہ نہیں کھلتا۔اس کے متعلق فرمایا میں رحیم ہوں جو مجھ سے محبت کرتا اور میری طرف آتا ہے میں اسے آگے بڑھ کے ملتا ہوں۔اس سے معلوم ہو گیا کہ خدا اور بندہ کے درمیان کوئی وسیلہ نہیں ہے۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں میں سے بھی بعض جاہل اس طرف چلے گئے ہیں کہ خدا تعالی تک پہنچنے کے لئے کوئی وسیلہ ہونا چاہیے۔ایک وسیلہ تو قرآن نے بھی بتایا ہے مگر اس کے معنے خدا تعالیٰ کا قرب ہے اور یہ صحیح ہے مگر بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ خدا اور انسان کے درمیان کوئی اور انسان وسیلہ ہونا چاہیے حالانکہ خدا اور بندہ کے درمیان کوئی وسیلہ نہیں۔اس لئے ہر حکم ہر انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے براہ راست ملتا ہے۔اور اس کا پورا کرنا اس کے ذمہ ہوتا ہے۔کوئی کہے اگر یہ سچ ہے تو ہر انسان پر شریعت نازل ہونی چاہئیے مگر یہ اعتراض درست نہیں۔شریعت کے نزول کی وجہ اور ہے اور ہر بندہ کو حکم ملنا اور ہے۔ہر انسان پر شریعت اس لئے نازل نہیں ہو سکتی کہ اس کے ساتھ نمونہ بھی چاہیے اور جب تک کوئی انسان کامل طور پر پاک نہ ہو اس وقت تک نمونہ نہیں ہو سکتا اور جب تک نمونہ نہ ہو شریعت نہیں نازل ہو سکتی۔پس اگر ہر انسان کو شریعت ملنی ہوتی تو ساری دنیا ہی اس سے محروم رہتی کیونکہ ایسے وجود گمراہی کے زمانہ میں کم ہی پائے جاتے ہیں جو کامل طور پر پاک ہوں۔جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں لوگ گر گئے تھے اور اس قدر ادنی درجہ پر چلے گئے تھے کہ کوئی ان میں سے خدا سے کلام نہ کر سکتا تھا۔جب یہ حالت تھی تو اس وقت چونکہ صرف محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی شریعت پانے کے قابل تھے۔اس لئے اس وقت صرف آپ ہی ہدایت پاتے اور کوئی نہ پاتا۔مگر منشائے الہی یہ ہوتا ہے کہ ساری دنیا ہدایت پائے اس لئے وہ اپنے نبیوں کو کھڑا کرتا ہے اور وہ چونکہ مستحق ہوتے ہیں خدا تعالیٰ سے کلام کرنے کے ، اس لئے ان کو کہتا ہے میں لوگوں سے بوجہ ان کی بد اعمالیوں کے خفا ہوں۔تو ان سے کہو کہ اپنی اصلاح کریں اور خدا کے محبوب بن جائیں۔جیسے باپ جو بچہ سے خفا ہو دوسرے آدمی کو کہتا ہے کہ تو میرے لڑکے کو یہ بات کہدے۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ باپ کا بیٹے سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا۔ہوتا ہے مگر لڑکے کی حالت چونکہ ایسی نہیں ہوتی کہ براہ راست مخاطب کیا جا سکے اس لئے دوسرے کے ذریعہ اپنی شفقت کی طرف توجہ دلاتا ہے۔تو نبیوں کو خدا تعالیٰ شریعت دے کے بھیجتا ہے اور وہ آکر