خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 147

147 شروع ہو جائیں گی۔چونکہ وہاں یہاں کی نسبت بعد میں سورج طلوع ہوتا ہے اس لئے وہاں کے ؟ بجے کے یہ معنے ہیں کہ اس وقت جو جمعہ کی نماز کا وقت ہے وہاں 9 بجیں گے۔اور گویا اس وقت وہاں بنیادیں کھودی جا رہی ہوں گی۔چونکہ یہ خصوصیت سے قبولیت دعا کا وقت ہے اس لئے میں جماعت سے درخواست کرتا ہوں کہ دعا کریں خدا تعالیٰ اس کام کو بابرکت کرے اور جس طرح عیسائیت ان ممالک میں پھیلی اس سے بڑھ کر اسلام پھیلے اور جس طرح ہم نے وہاں مسجد بننے کی خوشخبری سن لی ہے اسی طرح اسلام کی ترقی اور عظمت کا نظارہ بھی اپنی زندگی میں دیکھ لیں۔اس میں شبہ نہیں کہ یہ کام ہو کر رہے گا اور ضرور ہو گا مگر جو شخص کسی کام کے کرنے میں حصہ لیتا ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی تکمیل کو بھی دیکھے۔ہم نے اس کام میں حصہ لیا اور ہماری بھی خواہش ہے کہ ہم اپنی زندگی میں وہاں توحید کی پرستش ہوتی دیکھیں اور سب لوگ ایک خدا کی عبادت کرتے نظر آئیں۔یہ کام ہو گا مگر ہماری خواہش ہے کہ ہمیں بھی اس کو دیکھنے کا موقع نصیب ہو۔اسی طرح ۵ / اگست کے متعلق بھی اعلان ہوگا اور اس دن جس وقت بنیاد رکھی جائے گی وہ یہاں کے لحاظ سے عشاء کے قریب کا وقت ہو گا۔میں دوسرے خطبہ کے بعد کھڑا ہو کر دعا کروں گا جماعت بھی دعا میں شامل ہو۔دوسرا عربی خطبہ پڑھنے کے بعد فرمایا۔یہ آخری فقره اذكروا الله يذکر کم کہ تم خدا کو یاد کرو۔خدا تم کو یاد کرے گا۔اس میں بھی اسی بات کا ذکر ہے دیکھو عزت اور شرف کیا ہے۔یہی کہ حکومت یاد کرے۔انسان بادشاہ کا مقرب ہو جائے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اذكروا الله يذكركم تم خدا کو یاد کرو تو خدا کے مقرب ہو جاؤ گے۔اور خدا کے ذکر کی سب سے اعلیٰ جگہ مسجد ہے گویا خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا کے ذکر کے سامان مہیا کرو۔تمہارا ذکر بھی بلند ہو جائے گا۔پس اگر دنیا میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت قائم ہو جائے اور لوگ صرف خدا ہی کے آگے سجدہ کریں تو سمجھو ہم بھی کامیاب ہو گئے اور ہمیں اس روحانی جنگ میں فتح حاصل ہو گئی۔ورنہ کئی قومیں لڑیں اور تباہ ہو گئیں۔اب ان کا نام و نشان بھی نہیں ملتا۔پس خدا تعالیٰ کے ذکر سے ہی ہماری یاد قائم رہ سکتی ہے۔یوں تو شریروں کی یاد بھی قائم رہتی ہے لیکن کیا ان کا نام کوئی عزت اور توقیر سے لیتا ہے ہرگز نہیں۔اصل یاد خدا تعالیٰ کے ذکر سے ہی قائم رہتی ہے۔اور پھر کوئی اسے مٹا نہیں سکتا۔پس جو نیک کام کرتے ہیں انہی کی یاد قائم رہتی ہے۔اب میں دعا کرتا ہوں۔عورتیں بھی دعا میں شامل ہوں۔(الفضل ۳ اگست ۱۹۲۳ء)