خطبات محمود (جلد 8) — Page 140
تجھے 140 ساری کوششیں باطل ہو جائیں گی جو حضرت مسیح موعود نے لوگوں کی اصلاح کے لئے کی ہیں۔پس اے دوستو! اور اے عزیزو! میری نصیحت ہے کہ جب مسلم اور غیر مسلم میں یہی فرق ہے کہ مسلم کامل فرمانبردار ہوتا ہے تو اپنے آپ کو اس کے مطابق مسلم بنا کر دکھاؤ اور اپنے نفس کو مارو۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ”میں اڑ جائے اور تم مشین کے پرزوں کی طرح کام کرو۔مگر میں کارکنوں کو بھی دیکھتا ہوں کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے اور ان باتوں کو دین میں روک بنا دیتے ہیں۔میں تو اپنے نفس کی حالت کو دیکھ کر سمجھتا ہوں کہ میں تو بادشاہ کی اطاعت کے لئے بھی تیار نہیں اگر خدا تعالی کا حکم نہ ہو اور خدا تعالیٰ کے لئے ایک چوہڑے کی اطاعت کرنا بھی میرے لئے ذرا بوجھل نہیں۔آج اگر ہمارے دو آدمیوں میں کسی بات پر اختلاف پیدا ہو تو وہ ایسا نہیں ہو سکتا جیسا کہ مولوی محمد علی صاحب سے پیدا ہو گیا تھا کیونکہ اس وقت مسائل میں اختلاف شروع ہو گیا تھا۔مگر مجھے اس زمانہ کا ایک واقعہ یاد ہے۔میں مدرسہ احمدیہ کا افسر تھا اور مولوی محمد علی صاحب صدر انجمن کے سیکرٹری تھے۔ایک ایسی بات پیش آگئی جو ان کے اختیارات سے باہر تھی اور میرے لئے ہتک کا موجب تھی۔یعنی مدرسہ کے ایک ملازم کو براہ راست انہوں نے کچھ لکھا اور اسے کہیں بھیج دیا۔حضرت خلیفہ اول کو اس کے متعلق شکایت ہوئی۔اس کے کام میں خرابی پیدا ہو گئی۔آپ نے مجھ سے پوچھا۔میں نے مولوی محمد علی صاحب کو لکھا کہ آپ کو میری توسط سے اس کے متعلق کارروائی کرنی چاہیئے تھی تاکہ میں اس کی بجائے پڑھائی کا کوئی اور انتظام کر دیتا۔اس پر انہیں برا معلوم ہوا کیونکہ وہ خود مختاری کے عادی تھے اور اپنی رائے کے خلاف کسی کی بات نہ سن سکتے تھے۔انہوں نے مجھے لکھا آپ کا یہ طریق غلط ہے۔انہوں نے ناصحانہ رنگ میں لکھا گو انہیں اس کا حق نہ تھا۔مجھے انجمن نے سیکرٹری مقرر کیا ہے۔آپ کو میری اطاعت کرنی چاہئیے اس پر میں نے انہیں یہی جواب دیا کہ قانون نے آپ کو جو اختیار دیا ہے اس کے ماتحت میں آپ کے ادنیٰ سے ادنیٰ حکم بھی ماننے کے لئے تیار ہوں مگر اس بارے میں سوال یہی ہے کہ یہ کارروائی آپ کی قانون کے ماتحت نہیں ہے۔انجمن کی فرمانبرداری کا تو میں کبھی قائل نہیں تھا مگر خلیفہ وقت نے جو انتظام کیا ہے اس کو ہر حالت میں ماننے کے لئے تیار تھا۔چنانچہ میں نے لکھا۔اپنے اختیارات کے ماتحت آپ جو بھی حکم دیں۔میں اسے ماننے کے لئے تیار ہوں اور باوجود اختلاف کے میں ان کی باتوں کو مانتا رہا۔تو ہر ایک حکم کی اطاعت کرنی چاہئیے نہ کہ جو دل چاہے مان لیا اور جو نہ چاہے اسے نہ مانا۔کئی لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اگر خلیفہ یہ بات کہدے تو مان لیں گے۔مگر خلیفہ کی کیا حیثیت ہے تم میں سے علم، عقل، دولت اور فراست کے لحاظ سے خلیفہ سے بڑھ کر ہیں۔پھر تم کیوں اس کی اطاعت کرتے ہو۔اس لئے کہ خدا نے اسے مقرر کیا ہے۔اور تم خدا کے لئے اطاعت کرتے ہو۔پس جب