خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 99

خطبات محمود جلد ۸ 99 نہیں۔اول کفر ہے بے دینی ہے۔اگر کسی سے بھی محبت اور درد کا احساس نہیں تو یہ جنون کی علامت ہوگی۔ممکن نہیں سچا مسلمان ہو اور اس کو احساس نہ ہو۔صبر کر کے بیٹھنے کا یہ موقع نہیں کہ مصیبت آگئی ہو اور ہم مصیبت زدہ کو مصیبت سے نہ بچائیں۔(کوئی شخص خطبہ میں بولا تھا فرمایا کہ خطبہ میں نہیں بولا کرتے) غرض یہ موقع ایسا نہیں جو صبر کا موقع ہو۔نہ ایسا ہے کہ اس پر قربانی سے بچنا چاہیے۔بلکہ یہی وہ موقع ہے کہ اس پر ہر قسم کی قربانی کی ضرورت ہے اور ہر قسم کی قربانی کرنے والا ہی مستحق انعام ہو سکتا ہے۔آگرہ میں بہت سی جماعتوں کے لوگ گئے اور رمضان سے پہلے یا رمضان کے بعد واپس آگئے۔اور کچھ ایسے ہیں جو ایک دن وہاں رہے اور اخبارات میں اعلان کر دیا۔یہ دین سے تمسخر ہے اور نمود کی خواہش ہے۔اگر کام کرنا ضروری ہے تو اس کو کرنے کی طرح کرنا چاہیے۔اور اگر کرنا ضروری نہیں تو نہیں کرنا چاہیئے۔ہمارا کام ختم نہیں ہو سکتا جب تک مرتد اسلام میں واپس نہ آجائیں بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ جب تک ساری دنیا اسلام کے جھنڈے تلے نہ آجائے اس وقت تک ہمارا کام ختم نہیں ہوتا۔میں نے جب اس کام کے شروع کرنے کے متعلق درس میں اعلان کیا تھا کہ خدا کے فرستادوں کی جماعتیں جب کسی کام کو شروع کرتی ہیں تو نہیں لوٹتیں جب تک کامیاب نہ ہوں یا اسی کام پر مرنہ جائیں۔پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ اس کام میں پوری ہمت صرف کرے۔اگر ہمارے مرد خدمت دین میں مرجاتے ہیں تو ہماری عورتوں کا فرض ہو گا کہ وہ اٹھیں اور خدمت اسلام کریں۔اگر عورتیں بھی مر جائیں تو ہمارے بچوں کو چاہیے کہ وہ اٹھیں اور کام کریں جب تک یہ حالت اور جذبہ ہماری جماعت میں نہیں ہوتا تو ہم نقال اور بھانڈ ہوں گے جو نبیوں کی جماعتوں کی نقل کرتے ہیں۔جب خدا نے ہماری رہنمائی فرمائی ہے ہمارا فرض ہے کہ اس کے بھولے ہوئے بندوں کو اس کے قدموں میں لائیں اور اس کام میں جان دیں۔یا فتح و ظفر کے جھنڈے اڑائیں۔اشاعت اسلام کے بارے میں ملکانوں کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ ساری انسانی آبادی کو خدا کی عبودیت میں لائیں۔جب تک یہ کام نہ ہو چکے ہمارا فرض ہے کہ جدوجہد کریں جب تک خود زندہ ہیں۔اور پھر ہماری اولاد پر جدوجہد فرض ہے جب تک وہ زندہ ہے اور یہ سلسلہ چلتا چلا جائے جب تک کہ دنیا سے شیطان مٹ نہیں جاتا۔جب تک یہ مقصد حاصل نہیں ہو جاتا ہمارے لئے کوئی آرام نہیں۔دنیا کام کی جگہ ہے آرام کی جگہ عقبی ہے۔میرے نزدیک یہ کام اب شروع ہوا ہے اور کامیابی انشاء اللہ ہمارے ہی لئے ہے کیونکہ ہو نہیں سکتا کہ ایک شخص خدا کے لئے اٹھے اور خدا اس کو چھوڑ دے۔اللہ تعالیٰ غیور ہے۔غیرت