خطبات محمود (جلد 8) — Page 535
535 ہوتا ہے۔اور بہت سے عزیز و رشتہ دار ہوتے ہیں جو جدا ہو جاتے ہیں۔مگر کوئی ایسا انسان نہیں جو اس کو بدلہ دے سکے۔پھر وہ کون سی ہستی ہے۔جو حقیقی جزا دے سکتی ہے۔وہ وہی ہے جس کا ہر ایک چیز پر تصرف اور قبضہ ہے دوسرا کوئی نہیں ہمارے دل اخلاص سے پر ہوں اور ہمارا ذرہ ذرہ کسی کی ہمدردی میں ہو۔لیکن جب اس کو ہمارے حالات کا علم نہیں وہ ہمارے دل کو دیکھ نہیں سکتا تو وہ ہمیں حقیقی جزا کب دے سکتا ہے وہ تو ہمارے اعمال کو دیکھے گا۔ممکن ہے اس کو مال کی ضرورت ہو اور ہمارے پاس پیسہ بھی نہ ہو اور ممکن ہو۔اس پر دشمن حملہ آور ہو اور ہمارے ہاتھ ہی نہ ہوں۔پاؤں ہی نہ ہوں۔پس ہمارے اخلاص کا وہ حقیقی بدلہ نہیں دے سکتا کیونکہ ہمارے دل پر اس کی نظر نہیں۔وہ ہمارے ظاہر کو دیکھتا ہے پس وہ کب ہماری جزا اور سزا کا مالک ہو سکتا ہے اس کا بدلہ تو نہایت محدود ہے پس ایاک نعبد کے لائق کوئی دوسرا وجود نہیں ہو سکتا۔ایک شخص جو بچے دل سے کے ایاک نعبد کہ اے خدا! میں تیرا ہی غلام ہوں۔تو پھر یہ کس طرح ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کے سامنے تو کہے۔میں تیرا ہی غلام ہوں اور اپنی حاجات کو کسی دوسرے کے سامنے لے جائے کیونکہ غلام کی تمام ضروریات کا متکفل آقا ہوتا ہے۔پس جب خدا تعالیٰ کو انسان کہتا ہے کہ میں تیرا ہی ہوں تو پھر خدا ہی کا حق ہے کہ وہ اسی سے مانگے ایاک نعبدو ایاک نستعین کہ اے خدا جب میں تیرا ہی ہوں تو اب کس طرح بے شرمی کر کے اوروں سے مانگوں اور سوال کروں۔پھر وہ کہتا ہے۔اهدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت عليهم۔عبودیت اور غلامی بغیر علم کے نہیں ہو سکتی۔کیونکہ ہمیں کیا علم کہ ہمارے آقا کے دل میں کیا ہے اور وہ کیا چاہتا ہے۔اس لئے بچے غلام اور بچے خادم کا یہ طریق ہوتا ہے کہ وہ پہلے اپنے آقا سے دریافت کر لیتا ہے کہ حضور میرا کام کیا ہو گا اور میں نے کیا کرنا ہے اس لئے وہ کہتا ہے کہ اے خدا جو ہدایات اور جو سچائیاں تو نے اپنے پہلے بندوں کو عطا کی ہیں اور جو کام تو نے ان کے سپرد کیا تھا وہی کام تو میرے بھی سپرد کر مجھے کام دیجئے۔مگر وہ ایسا ہی عظیم الشان کام ہو جو آپ نے پہلے خادموں اور غلاموں کو دیا ہے۔کوئی چھوٹا موٹا کام میرے سپرد نہ کیجئے اور پھر میرا تجربہ کیجئے کہ میں نے بھی وہی کر کے دکھایا یا نہیں۔جو آپ کے پہلے خادموں نے کیا۔معمولی حالات میں یہ کیسا معجبانہ مقولہ ہے۔مگر محبت اور اخلاص کے مقام پر اس سے بڑھ کر کوئی پیارا مقولہ نہیں۔اس لئے خدا تعالیٰ اپنے بندے کے اخلاص اور اس کی محبت کا احترام کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم ساتھ یہ بھی کہہ دو۔غیر المغضوب عليهم ولا الضالین کہ یہ تو ہمارا اس