خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 534

534 طور پر پر کسی انسان کی خدمت میں لگا کر اپنے وجود کو چور کر دیتے ہیں۔یا وہ سپاہی جو اپنے ملک کے لئے یا اپنے بادشاہ کی جان کی حفاظت کے لئے اپنی جان دے دیتا ہے۔اس کو اس قربانی کا بدلہ بادشاہ یا دوسرے لوگ کیا دے سکتے ہیں۔کیونکہ وہ تو ملک اور بادشاہ اور آقا کے لئے اپنی جان دے چکا ہے ایسی حالت میں اس کے کام کا بدلہ خود اس مرنے والے کو کوئی انسان نہیں دے سکتا۔پس حقیقتاً رحیم بھی خدا ہے کیونکہ وہ رب العالمین ہے۔تمام زمانوں کا وہ خدا ہے نہ ماضی اس کے تصرف سے باہر ہے نہ مستقبل۔پھر وہ مالک یوم الدین ہے اس لئے کہ وہ رب العالمین ہے کیونکہ جب تک زمانہ کے تغیرات سارے کے سارے کسی کے قبضے اور تصرف میں نہ ہوں کون کسی کو حقیقی طور پر جزا یا سزا دے سکتا ہے۔ایک منصف حاکم یا عادل بادشاہ جن کی ساری کوشش یہی ہوتی ہے کہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔حقدار کو حق مل جائے۔کسی پر ظلم اور تعدی نہ ہو۔اور رعایا امن و امان کے ساتھ زندگی بسر کرے۔مگر وہ دعاوی اور فیصلہ جات میں غلطی کر سکتا ہے۔کیونکہ وہ عالم ظاہری کا رب ہے۔عالم باطنی کا رب نہیں۔اس لئے وہ حقیقی طور پر جزا اور سزا نہیں دے سکتا۔مگر ایک ہستی ہے جو دیتی ہے۔اور وہ ایک ہی ہے۔جو کہ رب العالمین ہے۔پس اگر کوئی وجود ایسا ہو سکتا ہے جس سے ہم تعلق پیدا کر سکتے ہیں اور جس کی عبودیت کو ہم اپنے لئے فخر سمجھ سکتے ہیں۔اور اپنا تمام وجود اور ذرہ ذرہ اس کے لئے قربان کر سکتے ہیں تو وہ صرف وہی خدا ہے جو رب العالمین ہے۔جو رحمان ہے جو رحیم ہے جو مالک یوم الدین ہے اس لئے ہم صرف اسی ذات کو ایاک نعبد کے الفاظ سے یاد کر سکتے ہیں کیونکہ ایسے مالک کی غلامی میں ہمیں کلام کے ضائع ہو جانے کا کوئی اندیشہ نہیں اور دوسروں کی غلامی میں کام کے ضائع جانے کا خدشہ ہے کیونکہ اگر ہم کسی دوسرے کی خدمت یا غلامی کریں۔ممکن ہے کہ ہماری حالتوں کے بعض بدلے مستقبل سے تعلق رکھتے ہوں اور اس پر اس کو حکومت نہیں کیونکہ وہ عالم الغیب نہیں اور ممکن ہے۔ہماری حالتوں کے بعض بدلے ماضی سے تعلق رکھتے ہوں اور وہ ان کے قبضہ اور تصرف سے نکل چکا ہے۔اس لئے یہ کام اور خدمت بے فائدہ اور رائیگاں جائے گی ایک شخص جس کی پشت پناہ ایک زبردست بادشاہ ہو۔مگر ہزاروں بیماریاں اس کے پیچھے پڑی ہوئی ہوں اور ماضی میں ہی ان کے سب اسباب مہیا ہو چکے ہوں تو وہ بادشاہ کس طرح اس کا بدلہ دے ہے اور ان مخفی در مخفی اسباب کا کس طرح تدارک کر سکتا ہے تاکہ اس کے خادم کو ان کی وجہ سے صدہا بیماریوں کا شکار نہ ہونا پڑے۔پھر بہت سے لوگ ہوتے ہیں۔جن سے اس کو تعلق یا عشق سکتا۔