خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 515

515 تک ڈالے ہیں۔یا ملک کی پیداوار ، آب و ہوا ماں باپ احباب یا دوسرے حالات کا نتیجہ ہیں۔ان میں کوئی امتیاز اور فرق نہیں کر سکتا۔اس لئے تو آپ مجھے سچائی اور حقیقت کی راہ دکھا۔پس حقیقی آزادی کا ایک ہی علاج ہے کہ خدا کی طرف جھک جاؤ۔یہی قرآن سکھاتا ہے۔اور عقل سلیم یہی تعلیم دیتی ہے کہ اگر خدا ہے۔اور ضرور ہے تو اسی راہ سے آزادی نصیب ہو سکتی ہے۔ورنہ حریت اور آزادی رائے کا دعوئی اس قیدی سے بڑھ کر نہیں جو جیل سے نہ نکلنے کا نام آزادی رائے رکھتا ہے۔اور یہ طریق ایسا طریق ہے کہ جس کی کامیابی یقینی ہے۔جیسا کہ والذین جاهد و افينا لنهدينهم سبلنا میں وارد ہے۔حقیقی آزادی کی یہی ایک راہ ہے کہ خدا سے دعا مانگے۔اس پر گھمنڈ کر کے نہ بیٹھ جاوے کہ میری رائے آزاد ہے۔میں نے کھول کر بتا دیا ہے کہ آزادی رائے کا دعوئی ایک خیالی دعوئی ہے۔ایسی رائے غلامی کی رائے ہے۔بلکہ میں کہوں گا کہ غلامی سے بھی بد تر اس لئے کہ غلامی جانتا ہے کہ میں غلام ہوں مگر یہ نہیں جانتا کہ میں غلام ہوں۔اور غلام ہو کر اپنے آپ کو آزاد سمجھتا ہے۔اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ ہم سب اس حقیقت کو سمجھیں۔اور وہ ہم کو سچی آزادی عطا فرمادے۔جس کو میں عبداللہ کے لفظ سے تعبیر کرتا ہوں۔اور اس طرح پر ہم کو وہ مقام عطا کرے جو عبودیت کا مقام ہے۔جہاں تمام برکات اور فضل نازل ہوتے ہیں اور آزادی اور نجات ملتی ہے۔آمین مسلم کتاب القدر باب كل مولود يولد على الفطرة (الفضل ۴ دسمبر ۱۹۲۴ء)