خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 510

510 گا۔لیکن جب وہ مختلف رنگوں کو دیکھتا ہے۔تو ان کے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔پھر ایک کی بجائے دو تین چاہتا ہے اور اس طرح اس کی کوشش اور محنت بڑھ جائے گی۔کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ ایک سے زیادہ ہوں۔اور اس کی ترقی کا یہ ایک ذریعہ ہو گا۔اسی اصل پر اپنے معاملات کو دیکھ لو۔اور اگر صرف نماز ہی ہوتی تو اس کی ترقی محدود ہو جاتی۔لیکن جب مختلف قسم کے اعمال ہیں تو ان سے ایک ویرائٹی ( تنوع) پیدا ہو کر ترقیات کا سلسلہ وسیع ہو جاتا ہے۔غرض یاد رکھو کہ اختلاف ترقی کی خواہش پیدا کرتا ہے یہ خواہش اس چیز کو دیکھ کر ہوتی ہے جو اس کے پاس نہیں ہے۔اس اختلاف سے وہی مراد ہے۔جو ویرائٹی کو پیدا کرتا ہے اور غرض مشترک کے لئے اتحاد کامل کی ضرورت ہے۔ایسا اتحاد کہ کل کے کل ایک وجود کا حکم رکھیں پس ترقی کے لئے یہ اختلاف ضروری ہے۔اور اس سے مراد اختلاف رکھنا نہیں۔بلکہ اختلاف بڑھانا ہے جس جس قدر یہ ویرائٹی کا اختلاف بڑھے گا۔اس قدر ترقی ہو گی۔اور دوسری طرف اتحاد کامل کے رشتہ کو ہاتھ سے نہ دو۔روحانیت کی ترقی اور جڑ اسی سے وابستہ ہے۔قرآن کریم اسی اختلاف اور اتحاد کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔غور کرو کہ قرآن کریم نے ان دونوں اصولوں کو کس طرح جمع کیا ہے۔فرماتا ہے۔ایاک نعبد و ایاک نستعین یہ اتحاد کامل کی طرف اشارہ ہے۔بندہ درخواست کرتا ہے کہ تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تیری ہی مدد چاہتے ہیں۔باوجود یہ کہ وہ اکیلا اس کو پڑھتا ہے مگر دوسروں کو بھی شریک کرتا ہے۔یہ اتحاد کی تعلیم ہے۔وہ گویا اتحاد چاہتا ہے۔اور وہ اتحاد انسانیت کا اتحاد ہے۔جس مقصد میں سب ایک ہو سکتے ہیں۔پھر آگے کہتا ہے۔اھدنا الصراط المستقیم اس میں اس اختلافی خواہشات کا اشارہ ہے۔صراط مستقیم میں کئی منازل ہوں گے۔کچھ بہت آگے جا رہے ہیں۔کچھ ان سے پیچھے پھر ان کو دیکھ کر خواہش پیدا ہو گی کہ ان سے ملیں۔اس اختلاف نے ترقی کی تحریک پیدا کر دی ہے۔پہلی آیت نے اتحاد کامل کی تعلیم دی ہے۔جب اتحاد کامل ہو جاتا ہے۔تو وہ ایک قسم کے فیضان کو حاصل کرتا ہے۔جو اس اتحاد سے ہی وابستہ ہے۔اور اس کے بعد دوسری آیت میں اختلاف کامل کی طرف رہنمائی کی ہے جس سے مدارج ترقیات کے پیدا ہوتے ہیں۔غرض یہ دو باتیں ہیں جو اسلام انسان سے چاہتا ہے۔اور انسان اس کی خواہش تو کرتے ہیں۔مگر مفہوم نہیں سمجھتے کہ کیا کر رہے ہیں پس تم ان دونوں باتوں کو ہمیشہ مد نظر رکھو۔الفضل ۲۲ نومبر ۱۹۲۴ء)