خطبات محمود (جلد 8) — Page 496
496 گی۔میں سچ کہتا ہوں کہ انگریز ہم پر ہمارے اپنے لوگوں سے حکومت کرتے ہیں۔تحصیلدار اور پولیس والے ہمارے ہی بھائی ہیں۔وہ روپیہ کے لئے نوکری کرتے ہیں۔جب ملک کی خدمت کے جذبہ سے نوکری کریں گے۔تو حکومت غلط راستہ پر نہیں جائے گی۔ایسے لوگ جو ملک کی خدمت کے لئے نوکری اور تعاون کریں گے۔اگر ایک دو ان میں سے نکالے بھی جائیں تو سب کو نہیں نکالا جا سکتا۔غرض آزادی دنیا میں دماغی آزادی ہے۔اگر دماغی آزادی نہیں تو پھر بد ترین غلامی ہے ہم عقل سے انصاف اور دیانت سے تعاون کرتے ہیں۔اور بہترین چیز کو لینا اپنا حق سمجھتے ہیں۔مگر ہماری جماعت کے لئے یہ شرم کی بات ہو گی کہ ہم محض اس خیال سے کہ دوسرے ہمارے لباس پر ہنتے ہیں۔اپنا قومی لباس چھوڑ دیں۔ان چھوٹی باتوں سے جن کی بظاہر عقلی حقیقت کچھ نہ ہو۔بڑے بڑے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔ایک شخص جب چرہ اور سر کو دیکھے گا کہ اس پر اسلامی نشان نہیں۔تو وہ اسی نتیجہ میں حق پر ہو گا کہ اس کو اسلام سے تعلق نہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ جو شخص صدق دل سے سمجھتا ہے کہ میرا مذہب سچا ہے۔تو وہ اپنے عمل میں بھی ثابت کرے گا۔خواہ وہ عمل کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہوں۔ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ ڈاڑہی رکھنے میں کیا فائدہ ہے۔یا ہیٹ پہنے میں کیا حرج ہے؟ میں اس کے فوائد بھی بتا سکتا ہوں۔مگر میں کہتا ہوں کہ سوال دوسری طرح اس پر بھی تو ہوتا ہے۔کہ نہ رکھنے میں کیا فائدہ ہے اور ٹوپی نہ پہننے میں کیا نقصان ہے۔ان باتوں کو صحیح نقطہ نگاہ سے دیکھو اور وہ ہمارا قومی کریکٹر ہے۔پس قومی کریکٹر کو قائم رکھو تا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ کتے کی طرح پیچھے چلتے ہو۔اس کو خوب یاد رکھو کہ نقل علم میں ہوتی ہے کریکٹر میں نہیں ہوتی۔اور وہ نقل جو علم میں ہوتی ہے۔غلامی نہیں ہوتی۔بلکہ اس کا نام اڈا پٹیشن ہوتا ہے اور یہ ایڈا پٹیشن تدریجی ہوتا ہے۔غلامی کا نتیجہ نہیں ہو تا بلکہ واقعات کے باریک اثر کے ماتحت ہوتا ہے۔اسلام تم کو ہر قسم کی غلامی اور بدترین غلامی جو دماغی غلامی ہوتی ہے۔اس سے نجات دیتا ہے۔اگر تم اپنے قومی کریکٹر کو مضبوط رکھو تو تم دنیا کو نہ صرف فتح کر سکتے ہو۔بلکہ اوروں کو اس غلامی سے نجات دلا سکتے ہو۔میں نہایت افسوس اور تکلیف سے کہتا ہوں کہ یہاں آنے والوں نے مبلغ سے لے کر نیچے تک یہ غلطی کی ہے کہ عورتوں سے مصافحہ کرتے رہے ہیں۔حالانکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصافحہ نہیں