خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 452

452 لئے حاصل ہوا کہ آپ نے مہدی کی غلامی کی اس سے زیادہ درجہ آپ کا کچھ نہیں۔تیسری بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے سنا ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ حضرت مسیح موعود شرعی نبی نہ تھے۔اس لئے ان کے بیان کئے ہوئے مسائل ہمارے لئے حجت نہیں ہیں۔اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے بعض لوگ کہتے ہیں خدا کا بیٹا ہے۔فرماتا ہے۔قریب ہے کہ آسمان و زمین پھٹ جائیں۔اس بات کو سن کر کہ بعض لوگ کہتے ہیں۔خدا کا بیٹا میں سمجھتا ہوں اس قسم کے خیال کے لئے بھی ہم یہی فقرہ کہہ سکتے ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔انت منی بمنزلة توحیدی و تفریدی ۳۰ کہ تو مجھے ایسا ہی پیارا ہے جیسے توحید یعنی جس طرح مجھے یہ ناپسند ہے کہ کوئی شرک کرے۔اسی طرح مجھے یہ بھی ناپسند ہے کہ تیرے درجہ میں کوئی کمی کرے۔پس اگر خدا کا بیٹا کہنے سے زمین و آسمان پھٹنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں تو وہ جو توحید جیسا خدا کا مقرب ہے۔اس کے درجہ میں اگر کمی کی جائے گی تو کیوں آسمان و زمین پھٹنے کے لئے تیار نہ ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے نبیوں میں سے ایک نبی تھے اور اس رسول کے بھیجے ہوئے رسولوں میں سے ایک رسول اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو رسول آئیں وہ شریعت لائیں یا نہ لائیں۔وہ خدا سے علم پاتے ہیں۔خدا تعالیٰ جو نبی بھیجتا ہے کسی غرض کے لئے بھیجتا ہے یا یونہی۔اور ساری دنیا سے لڑائی جھگڑے کرا کر نتیجہ کیا نکالتا ہے کیا یہی کہ ساری دنیا سے لڑائی جھگڑے تو نبی کرے۔سب لوگوں سے دکھ اور تکالیف تو وہ اٹھائے۔ہر وقت لوگوں کے غم اور فکر میں تو وہ ہلکان ہوتا رہے لیکن اس کی بجائے مسائل کا فیصلہ کرنا اوروں کے سپرد ہو جائے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی شیر ہوتے ہیں اور شیر کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ شکار مارے۔اور گیڈر کھائیں۔خدا تعالیٰ کے نبی شیروں کی طرح ہوتے ہیں اور ہماری مثال گیڈروں کی سی ہوتی ہے کہ شیر شکار مار کر جاتا ہے اور ہم پیچھے کھاتے ہیں۔پس خدا تعالٰی نے جو رتبہ اور درجہ نبی کو دیا ہے وہ اسے دو اور جو تمہارے لئے رکھا ہے وہ اپنا سمجھو یہ اور بات ہے کہ ان تعلیمات اور مسائل کو لے کر جو حضرت مسیح موعود نے بیان کئے۔اور اس رعب کی وجہ سے جو آپ نے قائم کیا اور اس جماعت کے سہارے جو آپ نے بنائی۔کوئی بات ہم بھی بنا لیں اور کسی مقصد میں ہم بھی کامیاب ہو جائیں۔لیکن دراصل وہ ہماری کسی خوبی کی وجہ سے نہیں ہو گا۔