خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 449

449 کوئی علم تھا کہ ترکی پارلیمینٹ کا ایک ممبر چین میں گیا۔اس نے اپنا سفرنامہ لکھا جس میں وہ لکھتا ہے۔میں نے چین کے ایک شہر کانٹن میں یہ جھگڑا فساد سنا کہ احمدی جامع مسجد کے متعلق کہتے تھے۔یہ ہماری ہے اور دوسرے مسلمان کہتے تھے ہماری ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہاں جماعت موجود ہے اور اتنی بڑی جماعت ہے کہ مسجد پر قبضہ کرنے کا استحقاق رکھتی ہے۔پھر مسجد بھی کوئی عام مسجد نہیں بلکہ جامع مسجد ہے۔ہمیں اب تک بھی اس جماعت کا علم نہیں مگر ایک غیر شخص اس کا ذکر کرتا ہے جو ہمارا دشمن ہے۔اسی طرح ایک پولٹیکل افسر کا خط پچھلے دنوں الفضل میں شائع ہوا تھا جس سے معلوم ہو سکتا تھا کہ دنیا میں کس طرح ہر جگہ احمدیت کا چرچا ہو رہا ہے۔ایک بہت بڑے رئیس نے تو انہیں یہاں تک کہا کہ تم ہندوستان سے میرے لئے کیا تحفہ لائے ہو۔انہوں نے کہا کہ نافہ لایا ہوں۔اس پر وہ ہنس کر کہنے لگا کہ حضرت احمد کی کوئی کتاب لائے ہو یا نہیں؟ یہ چر چا کس طرح ہوا۔کیا ہماری کوششوں سے۔ہرگز نہیں خدا تعالٰی نے ہی حضرت مسیح موعود کا ذکر پھیلا دیا۔کیونکہ وہ اپنے ماموروں کی خبر خود پھیلاتا ہے۔آج بھی ایک خط آیا ہے۔جو اسی قسم کی بشارت لایا ہے۔اور ایسی جگہ سے آیا ہے۔جہاں آج تک کوئی احمدی نہیں گیا۔بلکہ وہاں کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ چونکہ سنوسی خیالات کے لوگ ہیں اس لئے احمدیت کی طرف توجہ نہیں کر سکتے۔مگر آج ایک عرب کا رجسٹری خط ملا ہے۔وہ ترکی فوج میں کپتان تھے اور آج کل سیاحت پر ہیں۔وہ مصر میں احمدی ہوئے تھے۔وہ لکھتے ہیں یہاں ایک بہت بڑے پیر ہیں جن کے بہت سے مدارس ہیں۔اور ہزاروں مرید ہیں۔وہ احمدی ہو گئے ہیں۔ان کے لئے سلسلہ کی کتابیں جلدی بھیجیں۔کیونکہ ان کا ارادہ ہے کہ اس علاقہ میں تبلیغ کے لئے نکلیں۔اب دیکھو ان علاقوں میں کون پہنچا۔یہ اللہ تعالی کا فضل ہی ہے۔جو لوگوں کو کھینچ کر احمدیت کی طرف لا رہا ہے۔کہاں ایک شخص مصر میں احمدیت کا ذکر سنتا ہے اور احمدی ہو جاتا ہے۔اور خدا اس کے دل میں ایسا اخلاص ڈال دیتا ہے کہ وہ تبلیغ شروع کر دیتا ہے۔اس کے متعلق خیال تھا کہ نہ معلوم کہاں چلا گیا۔کیونکہ عرصہ سے اس کا کوئی خط نہ آیا تھا۔لیکن اب اس نے لکھا ہے کہ افسوس کہ میں اس سے پہلے کوئی خط نہ لکھ سکا۔میں تبلیغ میں مصروف ہوں۔اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ بہت سے لوگ تیار ہیں اگر کوئی مبلغ آئے تو ہزاروں آدمی سلسلہ میں داخل ہو جائیں گے۔ایک یہ بات ہے جو میں آج سنانا چاہتا ہوں :-