خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 443

443 70 (فرموده ۲۷ جون ۱۹۲۴ء) بعض دینی احکام کی حکمت مشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا : ابھی موذن نے اذان دی ہے۔اور اس اذان میں بلند آواز سے کچھ فقرات کے ہیں۔یہ اذان کوئی نئی اذان نہیں۔آج ہی یہ الفاظ ہمارے کان میں نہیں پڑے، بلکہ جب سے ہم مسلمانوں کے گھر پیدا ہوئے ہیں۔اسی وقت سے یہ الفاظ ہمارے کانوں میں پڑتے چلے آئے ہیں حتی کہ جب مسلمانوں کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے، تو حکم ہے کہ پیشتر اس کے کہ اسے کوئی چیز کھلائی جائے۔اس کے دائیں کان میں اذان کہی جائے اور بائیں کان میں اقامت تو ایک مسلمان کے کان میں پیدا ہوتے ہی اذان کے کلمات پڑتے ہیں۔اور آج جو الفاظ ہم نے سنے ہیں۔وہ کوئی جدید نہیں، بلکہ انہی کی تکرار ہے، جو پیدائش کے وقت سے سنتے ہیں ، مگر سوال یہ ہے کہ یہ الفاظ کیوں کے جاتے ہیں اور ان میں کیا حکمت ہے۔اس کے متعلق بہت لوگ کہہ دیں گے کہ یہ اس لئے کہے جاتے ہیں کہ نماز کے لئے لوگوں کو بلایا جائے۔یہ سن کر لوگ نماز پڑھنے کے لئے آئیں لیکن سوال یہ ہے کہ ان الفاظ میں بلانے کی کیا ضرورت ہے کیوں نہ ایک آدمی کھڑا ہو جاتا جو لوگوں کو کہتا، نماز کے لئے آؤ۔یا کیوں نہ ڈھول بجا دیا جاتا جس سے لوگوں کو نماز کے وقت کی اطلاع ہو جاتی۔یا کیوں نہ کسی بلند جگہ پر آگ جلا دی جاتی جسے دیکھ کر لوگ نماز کا وقت معلوم کر لیتے یا کیوں نہ ناقوس بجا دیا جاتا۔جس سے لوگ نماز کے وقت کا اندازہ کر لیتے۔یا کیوں نہ گھنٹی بجا دی جاتی جس سے نماز کے وقت کا پتہ لگ جاتا۔ان سب کو چھوڑ کر یہ الفاظ کیوں اختیار کئے گئے۔اس میں ضرور کوئی حکمت ہونی چاہیئے۔اور جب تک ہم اس حکمت کو نہیں سمجھتے۔اذان کی حکمت سے غافل ہیں۔مگر میں دیکھتا ہوں، بہت لوگ پانچ وقت اذان