خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 39

39 ادھر توجہ دلائی اور اس کے ساتھ جو عہدیدار چل رہا تھا۔اس کو کہا کہ اس پر مقدمہ چلاؤ۔اتفاق یہ که در حقیقت وہ سپاہی سیدھا چل رہا تھا۔اس نے کہا کہ میرے پر مقدمہ کس بات کا چلایا جائے گا۔میں تو سیدھا چل رہا ہوں۔دوسرے افسر نے کہا کہ اس پر پہلی بات کا مقدمہ خارج کر کے اس بات کا مقدمہ چلاؤ کہ اس نے عہدیدار کو جواب دیا۔اس کو یہ بات اس وقت پیش کرنے کی ضرورت نہ تھی۔اگر مقدمہ چلتا تو اس وقت یہ پیش کر دیتا۔اسی جنگ کے دوران میں ایک یونیورسٹی کو ر بھی بنی تھی۔جس میں تناسب کے لحاظ سے ہمارے احمدی بہت زیادہ تھے۔اور یہ اس لئے بنائی گئی تھی کہ دکھایا جائے کہ ملک کا ہر طبقہ ہمارے ساتھ ہے۔اس میں بڑے بڑے تعلیم یافتہ سپاہی کے طور پر کام کرتے تھے۔ہمارے ایک احمدی کو حکم ملا کہ فلاں جگہ ایک کھمبا لگائے۔اس نے لگا دیا۔مگر اس کے متعلق رپورٹ ہوئی کہ اس نے کھمبا نہیں لگایا۔اس سے جواب طلب ہوا تو اس نے کہا کہ میں نے کھا لگا دیا ہے مگر ساتھ ہی اس سے یہ غلطی ہوئی کہ لکھ دیا کہ افسر نے رپورٹ غلط کی ہے۔اس بنا پر اس پر مقدمہ چل گیا۔پس اسی انتظام کے ماتحت ہم سخت انتظام کریں گے اور جو ہیڈ بنائے جائیں گے ان کی پوری اطاعت کرنی ہوگی۔ممکن ہے کہ بعض اوقات افسر سختی بھی کر بیٹھیں اور مار بھی بیٹھیں۔لیکن جو ماتحت ہو کے جائیں گے۔ان کا فرض ہو گا کہ وہ اپنے تمام ارادوں کو چھوڑ کر جائیں اور تمام سختیوں کے مقابلہ میں کام کریں اور افسر نے اگر نا واجب تکلیف دی ہوگی تو کام کے ختم ہونے کے بعد رپورٹ کر سکتے ہیں۔مگر اس وقت کام کرنا ہو گا۔ماتحتوں کو بہر حال افسروں کی اطاعت کرنی اور ان کا حکم ماننا ہوگا اگر وہ زیادتی کریں گے تو خدا تعالیٰ ان کو سزا دے گا۔صبر کا اجر ملے گا اور بعد میں رپورٹ کر سکتے ہیں۔پس درخواستیں کرنے والے سن لیں کہ افسروں کی اطاعت کرنی ہوگی۔اپنے خرچ سے جانا ہو گا اور بیوی بچوں کا خرچ آپ برداشت کرنا ہوگا۔سوائے ان مبلغوں کے جن کو ہم لگائیں گے۔درخواست میں یہ بھی بتائیں کہ وہ کس سہ ماہی میں تیار ہیں۔وہاں ان کو دن رات کام کرنا ہو گا۔اگر فاقہ کشی اختیار کرنی پڑے گی تو کریں گے۔حضرت مسیح موعود نے بھی زندگیاں وقف کرنے کا اعلان فرمایا تھا۔کئی آدمیوں نے زندگیاں وقف کی تھیں۔ان میں سے ایک چوہدری فتح محمد صاحب تبلیغ کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔دو تین اور ہیں۔مفتی محمد صادق صاحب بھی تبلیغ کر رہے ہیں۔باقی اپنے اپنے کام میں لگ گئے۔حضرت مسیح موعود نے سید حامد شاہ صاحب (مرحوم) کو مقرر فرمایا تھا کہ وہ شرائط و قواعد مقرر کریں۔شاہ صاحب نے قواعد تیار کئے اور میں نے ہی حضرت صاحب کو سنائے۔ان شرائط میں یہ بات تھی کہ