خطبات محمود (جلد 8) — Page 382
382 توحید جڑ ہے اور توحید ہی ہے جس کی کہ تمام انبیاء حضرات آدم سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیه و آله و سلم تک تاکید کرتے آئے ہیں۔اور ان کی بعثت کی غرض ہی توحید منوانا تھی۔ان کا اپنے آپ کو منوانا صرف اسی لئے تھا کہ وہ توحید لائے تھے وہ صدقات اور زکوۃ کی اس وجہ سے تاکید کرتے تھے۔اور ان کو فرض بتلاتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے قریب کرنے کا ایک ذریعہ ہیں اور اس کے حاصل کرنے میں مدد گار ہیں۔اسی طرح اگر وہ اخلاق فاضلہ کا حکم دیتے تھے۔تو وہ بھی اسی غرض سے کہ خدائے واحد کے پیدا کردہ بندے دوسروں کو دکھ نہیں دیتے اور جانتے ہیں کہ یہ سب ہمارے بھائی ہیں۔پس خواہ مذہب کو لو۔یا اخلاق فاضلہ کو لو۔صدقہ و زکوۃ کو لو کوئی بات ان میں سے خود مقصود نہیں بلکہ ان سب کا اصل مقصد توحید ہی ہے جو ان سب کی جڑ ہے اور اسی سے نظام عالم قائم ہے کیونکہ اگر خدا کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کا بیٹا تصور کر لیا جائے تو نظام عالم میں گڑ بڑ پیدا ہو جائے۔اسی نظام عالم کی ابتری کی طرف قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے بطور پیش گوئی اشارہ فرمایا ہے۔کہ آخری زمانہ میں عیسائیت کی ترقی ہو جائے گی اور ابن اللہ کا عقیدہ یہاں تک پھیل جائے گا اور ترقی کر جائے گا کہ گویا خدا تعالیٰ کی توحید مٹ جائے گی اور نہ صرف توحید ہی نہ مٹے گی۔بلکہ وہ زمین جس پر عبادت کی جاتی تھی۔اور وہ آسمان جو کہ برکتوں اور رحمتوں کو بنی نوع انسان پر نازل کرتا تھا۔قریب ہو گا کہ پھٹ جائے اور علمائے دین فوت ہو جائیں گے۔اس وقت ایسا وجود ظاہر ہو گا جو زمین اور آسمان کو پھٹنے سے بچائے گا اور ان کو ان کی جگہ پر دوبارہ قائم کرے گا اور وہ وہی مریمی صفت عیسی ہو گا جو ولدیت کے مسئلہ کو باطل کر دے گا اور وہ وہی ہو گا۔جو کہے گا کہ محلہ خان یار میں عیسی کی قبر ہے اور میں اس عیسی سے افضل ہوں جسے اے عیسائیو! تم خدا اور ابن اللہ کہتے ہو۔پس یہ پیش گوئی بڑی صفائی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ پوری ہو گئی اور ایک ایسا وجود پیدا ہو گیا اور ایسا سامان خدا کی طرف سے کیا گیا کہ جس نے ان روحانی زمین اور آسمانوں اور پہاڑوں کو پھٹنے اور ٹکڑے ہونے سے بچا لیا۔یہ پھٹنے کے قریب تھی لیکن اس کے وجود نے ان کو پھٹنے نہ دیا۔اور ان کو دوبارہ نئے سرے سے قائم کیا۔گویا آپ نے زمین اور آسمان ہی نیا پیدا کیا۔دیکھو ایک قریب المرگ آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ چند منٹ تک مرجائے گا لیکن جب وہ بچ جاتا ہے تو تم کہتے ہو کہ اس نے دوبارہ زندگی پائی۔اور ایسے موقع پر