خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 347

347 59 (فرموده ۴ اپریل ۱۹۲۴ء) جھوٹ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا مشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا آج میں جمعہ کی تیاری کر کے جب گھر سے نکلنے لگا تو کسی نے پیغام صلح کا ایک پرچہ مجھے بھیجا میرا نشاء تو آج تبلیغ کے متعلق ایک مضمون بیان کرنے کا تھا۔لیکن اس پرچہ کے آجانے سے مجھے خیال پیدا ہوا کہ اس کے اندر کوئی ایسا مضمون ہو گا جو میری ذات سے تعلق رکھتا ہو گا یا جو میرے پڑھنے کے قابل ہو گا۔لہذا میں نے اس کو کھولا اور اس کے مضامین پر نظر ڈالی۔دوسرے ہی صفحے پر ایک لیڈر دیکھا جس میں مولوی محفوظ الحق کا خط درج تھا۔جو اس نے قادیان سے نکل کر مولوی محمد علی صاحب کے نام لکھا۔اور جس سے خط بھیجنے والے کی غرض بھی ظاہر ہو جاتی ہے۔میں نے اس خط کو پڑھا اور اس تنقید کو بھی پڑھا جو اس خطہ پر یا اس کی بناء پر ہم پر کی گئی ہے۔یہ مضمون کیا بلحاظ اس کے کہ جب کوئی شخص صداقت کو چھوڑتا ہے۔اور کچے مذہب سے دور ہوتا ہے اور تبدیلی کرتا ہے۔تو وہ کس طرح صداقت کو چھوڑتے ہی نجاست پر منہ مارنے لگ جاتا ہے۔اور کیا بلحاظ اس کے کہ جب کوئی شخص کسی کی عداوت کو اپنا شعار بنا لیتا ہے اور اس کی دشمنی میں اندھا ہو جاتا ہے تو وہ کس طرح محل بے محل اعتراض کرنے لگ جاتا ہے۔اور کس طرح الزام لگانے میں دلیری کرتا ہے۔نہایت ہی حیرت میں ڈالنے والا تھا۔میں اس پرچہ کو ساتھ ہی لے آیا ہوں کیونکہ میں نے سمجھا کہ چونکہ خطبہ کی غرض یہی ہوتی ہے کہ جماعت کو ان امور سے جو اس سے تعلق رکھتے ہوں اطلاع دی جائے اس لئے میں نے ارادہ کیا کہ اسی مضمون کے متعلق کچھ بیان کروں۔پہلے میں وہ خط جو محفوظ الحق نے مولوی محمد علی کی طرف لکھا ہے سنا دیتا ہوں وہ لکھتا ہے۔خیال تھا کہ جب جناب والا کا اختلاف جماعت قادیان سے ظاہر ہوا تھا۔تو کیوں جناب کو قادیان