خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 345

345 لاکھوں کروڑوں درجہ کم معاملات میں غیرت دکھاتے ہیں۔اور قتل تک کر دیتے ہیں۔گو ہم قتل کو جائز نہیں سمجھتے۔مگر بے غیرتی کو نہایت ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔بہاء اللہ کے دو بیٹے تھے۔عباس آفندی اور محمد علی آفندی بہاء اللہ نے پہلے عباس کو اپنا جانشین اور اس کے بعد محمد علی کو قرار دیا۔لیکن اس کا بیٹا عبد البہاء خلیفہ بن گیا۔اور لوگوں کو محمد علی آفندی سے ملنے سے منع کر دیا۔خیر اللہ امریکن مبلغ عباس کا مرید امریکہ سے عکس میں آتا ہے۔اور محمد علی بہا اللہ کا اپنا بیٹا اس سے ملنے کے لئے آتا ہے۔مگر وہ انکار کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے آقا نے تم سے ملنے سے منع کیا ہے۔دیکھو معمولی سے اختلاف پر بہاء اللہ کے اپنے بیٹے سے ملنا بند کر دیا۔کسی دھوکہ اور فریب کی وجہ نہیں۔تو اب تم ان کے دھوکا اور قریب کی وجہ سے جو سلوک کرو۔وہ کیونکر اس کا ناواجب سلوک کہہ سکتے ہیں۔اور تم پر تنگ دلی کا الزام آ سکتا ہے۔یاد رکھو کہ ایک خلق پر عمل کرنے والا خوش خلق اور نیک اخلاق والا نہیں کہلا سکتا۔اس کی وہی مثال ہے۔کہتے ہیں کہ ایک بندر کو ہلدی کی گرہ مل گئی تھی۔وہ اسی کو لے کر پنساری بن بیٹھا۔نیک اخلاق محض مہربانی کا نام نہیں۔اگر موقعہ غیرت کا ہے۔اور وہ اس جگہ بھی کہے کہ مجھے مہربانی کرنی چاہیئے۔تو وہ بے غیرت ہے۔نرمی وہی نرمی کہلائے گی۔جو اپنے محل اور موقعہ پر ہو۔حضرت مسیح موعود فرماتے تھے۔کہ اگر کوئی بزدل کھے کہ دیکھو میں کس قدر رحمدل ہوں کہ کسی انسان کو قتل نہیں کیا۔تو وہ رحمول نہیں کہلائے گا۔اسی طرح ملک کی عزت خطرے میں ہو اور لوگوں کے اموال اور جانیں ہلاکت میں ہوں اور اس کو کہا جائے کہ تلوار پکڑ کر دشمنوں سے لڑو۔تو وہ تلوار کو پھینک دے اور کہے کہ میں نے امن کے زمانہ میں کسی کو قتل نہیں کیا۔تو اب میں کیوں قتل کروں یہ رحمدلی کے خلاف ہے۔تو وہ شخص کیا رحمدل کہلائے گا؟ نہیں بلکہ وہ بزدل اور بے غیرت کہلائے گا۔کیونکہ وہ جھوٹا ہے۔یہ موقعہ رحمدلی کا نہیں۔بلکہ بہادری اور غیرت کا مقام ہے۔پس نیکی تمام قسم کے اخلاق کے پائے جانے کا نام ہے۔تم اگر لوگوں سے مہربانی کرتے ہو۔لیکن غیرت کے موقعہ پر غیرت نہیں دکھاتے ہو۔تو وہ مہربانی محض بزدلی اور کمزوری ہے اور یہ نیکی کی وجہ سے نہ تھی۔بلکہ نفس کی وجہ سے تھی بلکہ نیکی اور تقویٰ وہی ہے۔جو بر محل ہو۔میں اپنی جماعت کے احباب کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سب اخلاق حسنہ پر کاربند ہوں اور جھوٹے چھلکوں پر خوش نہ ہو جائیں۔اور ایک قشر کو حقیقت نہ سمجھ بیٹھیں۔غیرت کے موقع پر غیرت دکھائیں محبت اور غضب کو صحیح طریق اور موقعہ پر استعمال کریں جھکنے کے موقعہ پر جھک جائیں