خطبات محمود (جلد 8) — Page 344
344 مجذوم اور پاگل قرار دیتا ہے۔اور ہم سے محال بات منوانا چاہتا ہے۔اس سے زیادہ اور کیا ہتک ہو گی۔اور کون سا موقعہ غیرت کا ہو گا۔وہ شخص جس کی پیدائش سے لے کر وفات تک ہر منٹ قرآن کی عزت کو ثابت کرنے میں خرچ ہوا۔جس کی زندگی کا مقصد قرآن کو زندہ کرنا تھا اور جس نے قرآن کو زندہ کیا اور اس کے حسن کو دنیا پر ظاہر کیا اور اس کے بند دروازوں کو وا کر دیا۔جس کی نسبت میں نے ایک غیر احمدی سے سنا تھا۔گو وہ فقیر مجھے اس وقت برا لگا تھا۔مگر اسے ایک عجیب لذت حاصل ہوتی ہے۔وہ کہتا تھا کہ مرزا صاحب کی زندگی کو جن لوگوں نے دیکھا ہے۔وہ جانتے ہیں کہ مرزا صاحب کو خدا کے لئے اتنی غیرت نہ تھی۔جتنی محمد رسول اللہ کے لئے تھی۔یہ تو غلط ہے کہ آپ کو خدا کے لئے محمد رسول اللہ سے کم غیرت تھی۔لیکن اس نے آپ کی محمد رسول اللہ کے لئے غیرت کو دیکھ کر یہ غلط قیاس کر لیا۔اس کی آنکھوں پر پردہ ڈالا گیا۔اور اس غیرت کو نہیں دیکھ سکا۔جو آپ کو اللہ تعالٰی کے متعلق تھی۔ایسے انسان کو یہ کہنا کہ وہ محمد رسول اللہ کی تعلیم کو موقوف کرنے کے لئے آیا تھا۔اور اس کے دین کو مٹانے کے لئے مبعوث ہوا تھا۔اور وہ بہاء اللہ کے لئے بطور ا رہاص تھا۔اس سے بڑھ کر مسیح موعود اور محمد رسول اللہ اور ہماری کوئی ہتک نہیں ہو سکتی۔گویا کہنے والا یہ سمجھتا ہے کہ ہم ایسے کم عقل ہیں۔اور جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں۔جو اس بات کو مان لیں گے وہ انسان جس کی محبت اور عقیدت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے شعروں میں بھی کہتا ہے۔قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآن ہے کہ چاند اگر مٹ جائے تو مٹ جائے مجھے پرواہ نہیں اور سورج اگر جاتا رہے۔تو مجھے کوئی غم نہیں کیونکہ قرآن کی روشنی اور نور میرے لئے کافی ہے۔اس کو کہنا کہ وہ قرآن کی موقوفی کے لئے آیا تھا۔اس سے بڑھ کر اور ہتک کیا ہو سکتی ہے۔میں جتنا اس بات پر غور کرتا ہوں۔اتنا ہی میرا جوش اور بڑھتا جاتا ہے۔یہ ایک خطرناک ہتک ہے۔جو مسیح موعود اور آنحضرت صلعم اور ہماری کی گئی ہے اگر دنیا میں غیرت دلانے کا کوئی موقعہ ہو سکتا ہے۔تو یہ ہے۔اس سے بڑھ کر اور غیرت دلانے والی کیا بات ہو گی۔مگر بعض لوگ خیال کرتے ں کہ وہ کہیں گے کہ ہم سے ایسا سلوک کیا گیا۔لیکن میں پوچھتا ہوں۔کہ کیا کوئی انسان غیرت کو روک سکتا ہے۔یہ وسعت حوصلہ نہیں۔بلکہ پرلے درجے کی بے غیرتی ہے۔اسلام بے غیرتی نہیں سکھاتا۔کون سا مذہب ہے جس میں غیرت کو برا کہا گیا ہو۔بہائیوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اس سے ہیں