خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 338

338 چوری ڈاکہ فساد مخالفت رسل سب غیر المغضوب علیھم میں داخل ہیں۔اور تمام اقسام شرک بت پرستیاں قبر پرستیاں ہر قسم کے غلو ولا الضالین کے نیچے آجاتے ہیں۔غرض کوئی بدی نہیں۔جس پر یہ دعا حاوی نہ ہو۔گویا ہم روزانہ اللہ تعالی کے سامنے اقرار کرتے ہیں کہ ہم تمام قسم کی اخلاقی بدیوں کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اور ہم ان لوگوں سے کسی قسم کا تعلق پیدا نہیں کرنا چاہتے۔جو مخلوق کی محبت میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔ایسا کہ گویا خدا کی محبت کو نظر انداز ہی کر دیا۔اور انسانوں کی شان کو اتنا بڑھایا کہ خدا کی شان سے مشابہ کر دیا۔یہ دونوں گروہ ہم سے بے تعلق ہیں۔ہم صراط مستقیم چاہتے ہیں۔سیدھا راستہ جو نہ ادھر ہو نہ ادھر وہ راستہ جس میں تیرے احکام کو توڑا جاتا ہے اور وہ جس میں خدا کی محبت کے بہانے سے انسانوں کو وہ مرتبہ دیا جائے۔جو خدا نے ان کو نہیں دیا۔ہم تو در میانہ راستہ چاہتے ہیں۔یعنی نبیوں کا مانتا اور ان کے احکام کو قبول کرنا اور ان کی تعلیم پر چلنا اور ان کو وہی درجہ دیتا جو خدا نے ان کو دیا ہے۔جب ایک مسلمان بار بار اور متواتر اصرار سے خدا کے سامنے کہتا ہے کہ تو مجھے مغضوب علیہم اور ضالین بننے سے بچا تو گویا وہ یہ کہتا ہے کہ میں غیرت مند ہوں۔میں نہ کسی قسم کی بدی کو خود اختیار کروں گا۔اور نہ اختیار کرنے والوں سے تعلق رکھوں گا۔یہ غیرت کی علامت ہے کہ بدی سے اس قدر متنفر ہوں۔کہ بدی کرنے والوں سے تعلق بھی نہیں رکھنا چاہتا۔اور اپنے لئے بار بار پناہ مانگتا ہوں۔پڑھنے کو تو سب لوگ یہ دعا پڑھتے ہیں کہ خدایا ہمیں مغضوب علیہم اور ضالین بننے سے بچا۔مگر کتنے ہیں۔جو اس مضمون پر غور کرتے اور سوچتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرتے ہیں۔اور کتنے ہیں جن کے دلوں میں غیرت پیدا ہو کہ جو خدا سے بے تعلق ہیں ہم بھی ان سے بے تعلق رہیں اور پھر اس پر عمل بھی کرتے ہوں۔بہت کم اور بہت ہی کم بلکہ بہت لوگ ہیں۔جو اس پر عمل کرنے والوں کو تنگ دل کہتے ہیں اور ان کو کم حوصلہ سمجھتے ہیں۔یاد رکھو۔اسلام سے باہر کوئی وسعت حوصلہ نہیں وسعت حوصلہ کے کیا معنے ہیں؟ کیا وسعت حوصلہ اس کا نام ہے۔کہ طبیب بھی وہ کڑوی دوائی پی لے۔جو بیمار کو پلاتا ہے۔ورنہ وہ تنگ دل ہے۔کیونکہ خود بامزہ غذائیں کھاتا ہے۔یا اس لئے کہ وہ بیماروں کو ان کے مزاج کے مطابق میٹھا گوشت نمک، چاول وغیرہ سے منع کرتا ہے اور خود کھاتا ہے۔وہ تنگ دل کھلائے گا؟ جب کہ وہ خود تکلیف اٹھا کر ان کا علاج بھی کرتا ہے تنگ دلی اس بات کا نام نہیں کہ مجرم کو وہ سزا دی جائے۔