خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 334

334 تمہارے لئے کرینہ ٹوپی اور جوتی دی ہے۔مگر اسے کچھ نہ دے اور یہ کہہ کر چل پڑے تو یہی کہا جائے گا کہ جو کچھ اس نے کہا غلط کہا ہاں اگر وہ چیزیں دے تب سمجھا جائے گا کہ وہ سچ کہتا ہے۔چونکہ جو انبیاء آتے ہیں۔وہ احد نا کہتے ہیں اور خدا سے اوروں کے لئے بھی مانگتے ہیں۔اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ دوسروں کو بھی کچھ دیں۔تاکہ معلوم ہو کہ وہ اس خدا کی طرف سے آئے ہیں۔جس نے اپنی مخلوق کی بھلائی اور بہتری کے لئے انہیں بھیجا ہے۔لیکن اگر کوئی شخص نبوت کا دعوی کرتا ہے۔مگر مانے والوں کو کچھ نہیں دیتا تو صاف ظاہر ہے کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے۔پچھلے دنوں ہم ایک جگہ سفر پر گئے۔وہاں کی ایک عورت کا لڑکا یہاں پڑھتا ہے۔اس نے اپنے لڑکے کے لئے مٹھائی دی کہ اسے دے دیں۔یہ محبت اور الفت کا تقاضا تھا۔مگر ایک شخص جو خدا کی طرف سے آنے کا دعوی کرے۔اور لوگوں کو کہے کہ میں تمہاری طرف آیا ہوں۔مگر نہ کچھ ان کے لئے لائے۔اور نہ انہیں کچھ دے۔تو کس طرح مان لیں کہ خدا نے اسے بھیجا ہے۔کیونکہ اگر خدا اسے اپنی مخلوق کی طرف بھیجتا تو کوئی چیز بھی اسے دیتا کہ جا کر مخلوق کو دے۔اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کسی نبی کے ذریعہ جو کتاب ملتی ہے۔وہ دنیا کے لئے انعام ہوتا ہے۔مگر یاد رہے صرف لطائف اور نکات سن لینے سے کسی کی تسلی نہیں ہو سکتی۔کیا اگر کسی بھوکے کے پاس کوئی آئے اور پچا کے مار کے چلا جائے تو بھوکے کا پیٹ بھر جائے گا۔اور اس کی بھوک دور ہو جائے گی۔اسی طرح اگر کوئی نبی آئے اور کچھ باتیں سنا کر چلا جائے۔تو خواہ وہ باتیں کیسی ہی اعلیٰ ہوں۔فائدہ نہیں دے سکتیں۔خدا تعالی اگر کوئی نبی بھیجتا ہے۔تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگ علی قدر مراتب نبی کے سے کمال حاصل کر سکیں ان میں ایسی تبدیلی اور تغیر واقعہ ہو کہ انبیاء سے مشابہت اور تعلق پیدا کر لیں۔اس معیار کے مطابق دیکھو جھوٹے نبی کبھی نہیں ٹھر سکتے۔کوئی شخص ایسا نہیں ہوتا جو ساری دنیا تک پہنچے ایک طبقہ ہو گا۔جس میں رہے گا۔اس لئے ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کچھ بے وقوفوں کو جمع کرے اور ان سے اپنی باتیں منوالے اور پھر وہ اپنے جیسے اوروں سے منوا لیں۔اس طرح کچھ نہ کچھ لوگوں کو منوا سکتے ہیں۔اور کچھ نہ کچھ بے وقوف ہر شخص کو کسی نہ کسی نسبت سے مان لیتے ہیں۔جیسا کہ ابن عربی لکھتے ہیں۔میں نے ایک کوا اور ایک کبوتر کو اکٹھے بیٹھے دیکھا۔اور حیران ہوا کہ ان کی رفاقت کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔اس بات کے دریافت کرنے کے لئے میں ٹھر گیا۔تھوڑی دیر کے بعد جب دونوں چلے تو میں نے دیکھا۔دونوں لنگڑے تھے ان کا جوڑ لنگڑے پن کی وجہ سے تھا۔جس رنگ کا کوئی آدمی ہوتا ہے۔اسی رنگ کے آدمی سے مل جاتا ہے۔بچے نبی بھی چونکہ ساری دنیا تک