خطبات محمود (جلد 8) — Page 330
330 اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ ہندوستان کو خاص درجہ حاصل ہو رہا ہے۔دیکھو وہ شخص جو کل تک خلیفہ تھا۔آج مظلوم ہے اور جس کو سلطان المعظم کہا جاتا تھا۔وہ کہتا ہے کہ ہم ہندوستان کی آواز کے منتظر ہیں۔پھر مسٹر گاندھی نے مسٹر محمد علی کو خلافت کے ٹوٹنے پر جو تار دیا ہے۔اس میں لکھا ہے کہ اسلام کا مستقبل مسلمانان ہند کے ہاتھ میں ہے۔اس کی کیا وجہ ہے کہ ہندوستان کی طرف نگاہیں پڑ رہی ہیں۔یہ دراصل خدا کی مخفی انگلی کام کر رہی ہے اور دنیا کو ہندوستان کی طرف متوجہ کر رہی ہے۔اس لئے نہیں کہ ہندوستان میں گاندھی اور محمد علی ہیں ان کی طرف دنیا کو لائے بلکہ اس لئے کہ غلام احمد ہندوستان میں پیدا ہوا ہے۔اور خدا چاہتا ہے کہ اس کی طرف دنیا کو لائے اور یہ ظاہر کرے کہ دنیا کی آئندہ نجات کس سے وابستہ ہے۔یہ قدرت کی آواز امریکہ اور انگلستان کی طرف متوجہ نہیں کرتی۔جہاں ڈوئی اور پگٹ ہوئے یہ ایران اور شام کی طرف متوجہ نہیں کرتی۔جہاں باب اور بہاء اللہ ہوئے۔یہ افریقہ کی طرف نہیں لے جاتی کہ وہاں چارہ کار تلاش کیا جائے۔بلکہ ہندوستان کی طرف متوجہ کرتی ہے۔اس لئے کہ وہ راست باز ہندوستان میں آیا جس سے دنیا کی آئندہ ترقی وابستہ ہے۔یہ جمعہ کا خطبہ ہے۔میں اس کو لمبا کرنا نہیں چاہتا۔مگر یہ میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جب وہ کسی طرف دنیا کی توجہ پھیر نی چاہتا ہے۔تو اس کے لئے غیر معمولی اور غیر متعلق سامان پیدا کر دیتا ہے۔اب جہاں سیاسی امور کی وجہ سے ہندوستان پر نظر پڑ رہی ہے۔اسی طرح ہندوستان کو لوگوں کی نظروں میں لانے کے لئے اور سامان بھی کر دیئے گئے ہیں کیونکہ دنیا میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو مذہب پر براہ راست متوجہ ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اس لئے خدا تعالی نے ہندوستان میں ٹیگور کو پیدا کیا کہ لٹریچر سے مذاق رکھنے والے ہندوستان کی طرف متوجہ ہوں اور اس طرح ٹیگور مسیح موعود کی طرف لوگوں کو لانے کا ایک ذریعہ ہو گیا۔پھر خدا کے نبی سائنس کے مسائل حل کرنے کے لئے نہیں آتے۔مگر اس زمانہ میں چونکہ سائنس کی طرف دنیا متوجہ ہے۔اس لئے خدا نے ہندوستان میں بوس کو پیدا کیا۔جس نے اپنے اکتشافات سے ہندوستان کو دنیا کی نظر میں ممتاز کر دیا اور یہ اس لئے ہوا کہ وہ لوگ جن کو سائنس سے لگاؤ ہے۔وہ اسی ذریعہ سے ہندوستان کی طرف متوجہ ہوں اور اس طرح یہ ذرائع اختیار کر کے خدا تعالٰی نے دنیا کو مسیح موعود کے پاس لا کھڑا کیا ہے۔اور یہ سامان اس لئے ہو رہے ہیں کہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ دنیا کی آئندہ مصلح قوم ہندوستان میں ہی ہوگی اور دنیا کا ہادی ہندوستان میں آیا ہے۔اور وہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ