خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 327

327 کھیٹتے پھریں۔تاہم میں نے حجت قائم کرنے کے لئے ان جلسوں میں دو ٹریکٹ لکھ کر بھیج دیئے۔جن میں میں نے بتایا کہ جو رویہ تم اختیار کر رہے ہو۔اور جس پر اپنے مطالبات کی بنیاد رکھ رہے ہو۔یہ ترکوں کے لئے مفید نہیں ہو سکتا۔بلکہ خطرناک ہے۔مثلاً یہ کہنا کہ ترکوں کے بادشاہ کو سب مسلمان خلیفہ مانتے ہیں۔اس لئے ہم ان کی امداد کے لئے کھڑے ہوئے ہیں یہ اصولا " اور وا قعتہ " غلط تھا۔شیعہ ترک سلطان کو خلیفہ نہیں مانتے۔سات سو سال سے ایرانی حکومت عرب حکومت کے خلاف نبرد آزما رہی ہے۔اور ۶۵ سو سال سے کرو اور ترک عرب کو زیر کرنے کی کوشش میں مصروف رہے ہیں اگر ایرانی خلیفہ سمجھتے۔تو ایسا کیوں کرتے۔علاوہ ازیں اگر خلافت کا حق مقدم سمجھا جائے تو ابو بکر عمر عثمان زیادہ مستحق ہیں کہ ان کو خلیفہ مانا جائے۔لیکن شیعہ جوان کو خلیفہ نہیں مانتے وہ سلطان لڑکی کو کس طرح خلیفہ مان سکتے ہیں۔پھر ہم لوگ ہیں ہم کسی بھی صورت میں ترک سلطان کو خلیفہ نہیں مان سکتے۔ہمارے نزدیک خلیفہ وہ ہو سکتا ہے۔جو اس زمانہ کے مامور حضرت مسیح موعود کا متبع ہو۔اور اس کے سوا کوئی خلیفہ نہیں ہو سکتا۔اہلحدیث کا یہ مذہب ہے کہ خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہیئے۔ان میں سے جن لوگوں نے شورو ہنگامہ میں خلافت لڑکی کی تائید میں آواز اٹھائی اور خلافت کو جائز سمجھا۔وہ ان کے مذہبی عقیدے کے مطابق رائے نہ تھی۔بلکہ بزدلی اور خود غرضی کے ماتحت رائے تھی۔علاوہ اس کے سینیوں میں سے بھی اس خیال کے لوگ پائے جاتے ہیں۔جو ترک سلطان کو خلیفہ تسلیم نہیں کرتے۔اس لئے میں نے کہا تھا کہ ترکوں کی ہمدردی کی تحریک کی بنیاد ایک ایسی بات پر رکھنا غلطی ہے۔جس پر سب مسلمان متفق نہیں ہو سکتے۔بلکہ اس کی بجائے اس تحریک کو سیاسی طور پر چلایا جائے اور مخالف رائے کو موافق بنایا جائے۔اور ترکی حکومت کو بحیثیت ایک اسلامی سلطنت کے پیش کیا جائے۔میری اس بات کو حقارت سے دیکھا گیا۔یا ظاہر کیا گیا کیونکہ بعض ذی اثر اصحاب نے اپنی پرائیویٹ ملاقاتوں میں میری تجویز کی تعریف کی اور کہا کہ ہونا تو ایسا ہی چاہئے۔مگر اب حالات ایسے ہیں کہ ہم عوام کی مخالفت نہیں کر سکتے۔لیکن جو ہجرت کی تحریک کا نتیجہ ہوا اور بائیکاٹ کی تحریک کا ہوا۔وہی آخر کار خلافت کا نتیجہ ہوا۔خلافت کی تحریک کے جوش کے زمانہ میں کہا جاتا تھا کہ نماز کا چھوڑنا زکوۃ نہ دینا کوئی بات نہیں۔مگر جو خلافت کا منکر ہے۔وہ کافر ہے۔اور وہ شخص جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ خلافت کا