خطبات محمود (جلد 8) — Page 316
316 اسلام تو ایسی طرز کو پسند نہیں کرتا۔لیکن وہ اس سادگی کا حکم دیتا ہے۔جو اس حالت کے قریب اور اس سے مشابہ ہے۔جو ایک مانگنے والے کی حالت ہوتی ہے پس ایسے زمانہ میں جبکہ ساری دنیا صداقت کے لئے چلا رہی ہے۔اس وقت اگر ہمارے آدمی عقد ہمت کر کے تبلیغ کے لئے نکل پڑیں اور خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیں۔تو چند ہی دن کے اندر تمام دنیا میں ایک شور پڑ جائے گا اور تم دیکھو گے کہ بہت سے لوگ ایسے نکلیں گے جو کہیں گے کہ ہم تو کئی سال سے ان باتوں کو مان رہے ہیں۔کیونکہ دنیا میں اکثر لوگ یونسی ڈرا کرتے ہیں۔اور اپنے خیالات کے اظہار کی جرات نہیں کرتے۔پس بہت سے لوگ موقعہ کا انتظار کر رہے ہیں۔کہ کچھ آدمی ان کے ساتھ ہوں تو وہ اپنے آپ کو ظاہر کر دیں۔سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ نکلیں گے۔جو کہ دل میں تو مان رہے ہیں۔اور موقعہ کی تاک میں لگے ہوئے ہیں۔حالانکہ اس وقت وہ بظاہر مخالف نظر آتے ہیں۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بغیر سامان لئے دنیا میں تبلیغ کے لئے نکل پڑیں۔اور جس طرح سے بھی ہو۔وہ ان علاقوں تک پہنچیں اور تبلیغ اسلام کریں تا کہ پھر اسلام کے روشن ہونے کے دن آئیں۔اس قسم کے لوگ اگر ہمارے اندر پیدا ہوئے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ بڑی سرعت کے ساتھ اسلام دنیا میں پھیل جائے گا ایسے طریق پر تبلیغ کے لئے نکلنے کے واسطے صرف ہمت کی ضرورت ہے۔ایک دفعہ اگر انسان ہمت باندھ لے تو پھر اسے کوئی کام مشکل نہیں معلوم ہوتا۔دیکھو دنیا میں اکثر مذہب اس طرح پھیلے ہیں۔عیسائیت اسی طرح پھیلی ہے۔پھر اسلام بھی اسی طرح پھیلا ہے اور اب احمدیت بھی اسی طرح قائم ہوئی ہے۔اور ہماری جماعت میں بہت سے دوستوں نے قربانیاں کی ہیں۔پس اگر پہلے لوگ بھی قربانیاں کر سکتے تھے۔اور ہماری جماعت میں سے بہت سے دوست قربانیاں کر چکے ہیں۔تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے دوسرے بھائی ایسی قربانیاں نہ کر سکیں۔جبکہ ان قربانیوں سے ثواب الگ ملے گا اور تاریخوں میں نام الگ روشن ہو گا دنیاوی عزتیں بھی قربانیوں کے بعد ہی ملتی ہیں اور دینی عزتیں بھی قربانیوں سے ہی حاصل ہوتی ہیں پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بہت جلد تیار ہو جائیں۔تاکہ ہم ان کو ان ممالک میں بھیج دیں۔جہاں اس وقت زیادہ ضرورت ہے اور جو زیادہ تڑپ رہے ہیں۔اللہ تعالٰی ہمیں توفیق دے کہ ہم بہت جلد حق کو تمام لوگوں تک پہنچا دیں۔اور اسلام کو دنیا میں پھیلا دیں۔الفضل ۷ مارچ ۱۹۲۴ء)