خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 314

314 اس لئے اسے کبھی روسیوں کی موجد مقرر کرنے اور کبھی ایرانیوں کی سرحد کبھی چین کی سرحد مقرر کرنے کے لئے جانا پڑتا تھا۔کوئی وجہ نہیں کہ ایسا شخص جھوٹ بولے۔اس نے لکھا ہے کہ میں دنیا کے مختلف گوشوں میں گیا ہوں جہاں جہاں میں گیا ہوں وہاں احمدیت کے متعلق لوگ مجھ سے پوچھتے تھے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ ۵ یا ۶ء میں چین میں سرحد قائم کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔اس سفر میں میں ایک چینی جہاز پر سوار ہوا تو اس جہاز کے ایک افسر نے جو کہ اس جہاز کا کپتان تھا۔مجھ سے پوچھا ہندوستان میں ایک احمد نبی ہوا ہے۔اس کے متعلق تم کوئی زیادہ بات بتا سکتے ہو۔میں نے اسے کہا۔وہ تو کافر اور مرتد ہے۔تمام مولویوں نے اس پر کفر کے فتوے لگائے ہیں۔اس پر وہ کپتان بہت ناراض ہوا اور کہنے لگا۔وہ تو بہت اچھا اور ایک بہت بڑا آدمی ہے اسے تم نے کیوں کافر کہا ہے۔وہ اس قدر ناراض ہوا کہ اس نے کئی دن تک پھر کلام نہ کی۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مکان میں جو کہ عرب کا ایک علاقہ ہے۔گیا وہاں ایک عرب عالم میرے پاس آیا۔اس کی ہیئت سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے وہ دیوانہ اور عاشق ہو رہا ہے۔اس نے میرے پاس ذکر کیا کہ ہندوستان میں ایک احمد گذرا ہے جس کی عربی کتاب میں نے پڑھی ہے۔میں نے بڑے بڑے فصیح علماء کی کتابیں دیکھی ہیں۔لیکن میں نے کسی کتاب میں ایسی لذت نہیں دیکھی جیسی اس کتاب میں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے خاص انسان ہے۔اور اس نے وہ کتاب خدا کی خاص تائید سے لکھی ہے۔کیا تمہارے پاس اس کی کوئی اور کتاب ہے میں نے کہا کہ نہیں میرے پاس تو اس کی کوئی کتاب نہیں۔وہ صاحب لکھتے ہیں کہ میں پہلے تمام سفروں میں مرزا صاحب کو کافر و مرتد بتلاتا تھا۔لیکن جب مجھے شملہ میں بعض احمدیوں سے ملنے کا اتفاق ہوا اور ان کی بہت سی اچھی باتیں مجھے معلوم ہوئیں۔تو پھر میرا تعصب جاتا رہا۔اگرچہ میں احمدی نہیں ہوا اور نہ ہی اب احمدی ہوں۔لیکن میرا تعصب دور ہو گیا۔اس لئے میں پھر مرزا صاحب کے متعلق سوال ہونے پر یہی کہتا رہا کہ وہ اچھے آدمی ہیں اور احمدی اچھے لوگ ہیں۔پھر جنگ کے موقعہ پر ایک روسی سرحد قائم کرنے کے لئے ایک علاقہ میں گیا جہاں مجھے ارسلان پاشا سے گفتگو کا اتفاق ہوا۔جو ایک بادشاہ کی طرح سمجھا جاتا تھا۔وہ بڑے شوق سے مجھے ملا اور دوران گفتگو میں اس نے پوچھا کہ احمد مسیح جنہوں نے ہندوستان میں مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ان کے متعلق کیا حالات آپ کو معلوم ہیں اور ان کی کوئی تصنیف تمہارے پاس ہے۔میں نے کہا کہ نہیں میرے پاس تو ان کی کوئی تصنیف شدہ کتاب نہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ پھر جب کبھی آئیں تو