خطبات محمود (جلد 8) — Page 313
313 جس نے کہا کہ مجھے خدا نے اس زمانہ میں روحانی پانی کر کے بھیجا ہے۔اور خدا نے جب دیکھا کہ تمہاری روحانیت جاتی رہی ہے۔تو اس نے آپ تمہاری طرف توجہ کی اور اپنا ہاتھ بڑھایا اب ایسی قوم کے لئے یہ آواز کس قدر خوش کن ہو سکتی ہے۔شاید ہمیں کوئی کہے کہ پھر لوگوں نے حضرت صاحب کا مقابلہ کیوں کیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو یقین نہ تھا کہ واقعی اس وقت خدا کی طرف سے ہمارے لئے یہ شخص روحانی پانی لایا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک بھوکا ہو اور اس کے ساتھی بھی بھوکے ہوں۔ان میں سے ایک شخص جس کو کہیں سے کھانا مل گیا ہو۔دوسروں سے کسے کہ مجھے روٹی مل گئی ہے۔اس پر پہلے پہل اس کے ساتھی اسے ٹھٹھا کرنے والا سمجھیں گے۔اور اس پھر ناراض ہوں گے اسی طرح حضرت صاحب کی جو مخالفت کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگ مایوس ہو گئے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہم خدا کو نہیں پاسکتے۔اس وقت جب حضرت مسیح موعود نے کہا کہ خدا اب بھی مل سکتا ہے۔مجھے مل گیا ہے۔اور مجھے اس نے اس لئے بھیجا ہے۔کہ جو لوگ خدا سے دور ہو چکے ہیں۔مگر خدا سے ملنا چاہتے ہیں انہیں اس سے ملاؤں تو لوگوں نے سمجھا مرزا صاحب ہمیں چڑاتے ہیں۔پس حضرت صاحب کی پہلے پہل مخالفت کی وجہ یہی تھی۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ اب دنیا کے چاروں گوشوں سے لوگ کھینچے چلے آتے ہیں۔کچھ عرصہ ہوا ایک ترک ایک عجیب بات چین میں احمدیت کے متعلق اپنی تصنیف میں لکھتا ہے کہ ایک شہر میں میں گیا۔تو مجھے معلوم ہوا کہ ایک مسجد کے متعلق جھگڑا ہے اور کچھ لوگوں کو اس میں نماز پڑھنے سے روکا جاتا ہے۔میں نے دریافت کیا۔تو بتایا گیا کہ یہ احمدی لوگ ہیں جو ہندوستان کے ایک شخص کو مسیح موعود مانتے ہیں۔ان کو ہم مسجد میں نماز نہیں پڑھنے دیتے۔اس سے معلوم ہوا کہ چین میں بھی احمدی ہیں۔حالانکہ آج تک وہاں کوئی احمدی مبلغ نہیں گیا۔مگر اس ترک نے جو ترکی پارلیمنٹ کا ایک ممبر ہے۔مندرجہ بالا واقعہ لکھا ہے اب یہ وہ ملک ہے کہ جہاں نہ ہمارا کوئی مبلغ ابھی تک گیا ہے اور نہ وہاں کوئی ہماری تصنیف پہنچی ہے اور وہاں کی احمدیت کے متعلق ایک ایسا شخص خبر دیتا ہے جس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔اس سے پتا لگتا ہے کہ لوگ حق کے لئے پیاسے ہو رہے ہیں۔پھر ا بھی اس سفر میں ایک خط مجھے ملا ہے۔جو ایک ایسے شخص کی طرف سے ہے جو گورنمنٹ کا اعلیٰ سیاسی ممبر ہے۔اس نے عجیب واقعات لکھے ہیں۔وہ چونکہ سرحدوں کے قائم کرنے پر مقرر تھا۔