خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 311 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 311

311 تک آیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان تبھی بچے طور پر عبادت کر سکتا ہے کہ اس کے سوا تمام انسانوں کو بھی ہدایت ہو اور یہ تبھی ہلاکت سے بچ سکتا ہے۔جب کہ تمام آدمیوں کو خدا کی طرف سے ہدایت ہو اور مدد ہو کیونکہ اگر صرف اسی کو ہدایت مل گئی ہے اور دوسروں کو نہیں ملی تو دوسرے گمراہ لوگ اس کو گمراہ کر سکتے ہیں۔اگر اس کو گمراہ نہیں کریں گے۔تو اس کی اولاد کو ضرور گمراہ کریں گے۔پس یہ تبھی محفوظ رہ سکتی ہے جب کہ اس کے ارد گرد کے لوگ بھی محفوظ ہوں۔پس سورہ فاتحہ ہمیں سبق دیتی ہے کہ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم باقی لوگوں کو بھی ہدایت کی طرف لانے کے لئے توجہ کریں۔اگر خالی منہ سے ان کی ہدایت کے لئے دعا مانگتے رہیں۔لیکن ان کی ہدایت کے لئے کوشش نہ کریں۔تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم جھوٹ بولتے ہیں۔تبلیغ انسان کے ابتدائی اور اعلیٰ درجہ کے فرائض میں سے ہے۔اب جب کہ یہ دعا مانگتا ہے۔کہ ہم سب کو ہدایت دے تو عجیب بات ہے کہ جب اسے ہدایت دی جاتی ہے۔تو دوسروں کا حصہ بھی اپنے پاس رکھ چھوڑتا ہے یہ پھر چور اور ڈاکو ہے۔اس لئے خطرہ ہے کہ اس کو جو ہدایت دی گئی ہے۔وہ بھی چھینی جائے۔اس لئے وہی شخص قبولیت کا شرف حاصل کر سکتا ہے کہ جو دو سروں کو بھی جو ہدایت میں ان کا حصہ ہے پہنچا دیتا ہے۔اس میں چوری نہیں کرتا۔لیکن وہ شخص جو دوسروں تک ہدایت نہیں پہنچاتا وہ خطرہ میں ہے کہ وہ سبھی ہدایت سے محروم نہ رہے۔پس میں تمام جماعت کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جلد سے جلد اس زمانہ میں ہدایت کو دوسروں تک پہنچا دے۔اللہ تعالی ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم اپنے فرائض کو سمجھیں۔اور اپنی ذمہ داری کو ادا کریں۔اور ہدایت کو ہم دوسروں تک پہنچا دیں۔الفضل ۱۵ فروری ۱۹۲۴ء)