خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 310

310 طرح اگر رفت والا انسان کسی خوشی کی مجلس میں آجائے۔تو سب پر رقت طاری ہو جائے گی مثلاً خطبہ میں ایک شخص کسی بات پر سبحان اللہ کہے تو دوسرے کی زبان پر بھی سبحان اللہ جاری ہو جاتا ہے۔ایک شخص نماز میں رونے لگ جائے۔تو دوسروں کی آواز میں بھی رقت معلوم ہو گی ایک شخص عمدہ محنت کرتا ہے۔تو اس سے دوسروں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ایک تندرست ملازم ہے تو اس کے کام اور محنت سے اس کے بیوی بچوں کو اور اس کے آقا کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔تو نہ تو غم اور نہ خوشی نہ سکھ اور نہ دکھ کی کوئی ایسی بات ہے۔جو ایک کے ساتھ محدود ہو۔سلسلہ کیوں خدا نے رکھا ہے۔حتی کہ عذاب بھی ایک حد تک ایک انسان کے ساتھ تو اس کا خاص تعلق ہوتا ہے۔لیکن اس کا اثر دوسروں پر بھی ضرور ہوتا ہے۔مثلاً عذاب کے ماتحت ایک شخص جوان مرگ ہوتا ہے۔تو اس کا لازمی نتیجہ اس کے بیوی بچوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔اس طرح جن لوگوں پر رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔تو اس کے نتیجہ میں ان کے متعلقین کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ایک شخص خدمت دین کرنے والے شخص کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔تو اس کو بھی اس نیک کام میں کے ساتھ تو حصہ ملے گا۔اگر کوئی عالم کے ساتھ بیٹھے گا۔تو اسے بھی علم حاصل ہو گا۔پس یہ قانون بتا رہا ہے کہ ہم ہر ایک کام کو دیکھیں کہ یہ ہماری ذات تک محدود نہیں رہے گا۔کیونکہ اگر وہ مثلاً بیمار ہے اور اس کی بیماری غالب ہے۔تو ہم بھی بیمار ہوں گے۔یا ہماری بیماری غالب ہے تو دوسروں کو بیماری حاصل ہو گی۔اسی طرح اگر ہم تندرست ہیں اور ہماری صحت غالب ہے۔تو دوسروں کو بھی صحت حاصل ہو گی۔اسی بات کی طرف سورۃ فاتحہ میں اشارہ کیا گیا ہے جب کہ اس میں سے میں کا لفظ ہی اڑا دیا ہے جہاں متکلم کا صیغہ استعمال کیا ہے۔وہاں لفظ ہم ہی رکھا ہے۔تینوں جگہ ہم کا لفظ رکھا ہے۔ہم عبادت کرتے ہیں ہم خدا سے مدد مانگتے ہیں۔اور ہم اس سے ہدایت مانگتے ہیں۔جب ہم کوئی لفظ بولتے ہیں۔اور اس کی تعیین نہیں ہوتی تو ہم اس کلام کے بولنے کی طرف دیکھیں گے کہ اس کی پہلی کلام سے اس لفظ کی کیا تعیین ہوتی ہے۔تو ہم کو یہاں معلوم ہوتا ہے کہ اس سورۃ میں پہلے رب العالمین آیا ہے۔جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کم سے کم اگر اس کے معنے ہم لئے جائیں تو یہ ماننا پڑے گا کہ تمام کے تمام انسان جو ہیں اُن کی طرف سے ہم کہتے ہیں کہ ہم تیری مدد کے طالب ہیں۔تیری طرف سے ہدایت کے طالب ہیں۔بیشک نیک مقابلہ کے لئے اور ایک دوسرے کو مدد دینے کے لئے تو میں کا لفظ بولا جاتا ہے۔لیکن مجموعی کاموں کے لئے ہم آتا ہے۔پس یہاں جو ایاک نعبد سے لے کر اهدنا الصراط المستقیم