خطبات محمود (جلد 8) — Page 305
305 52 ہدایت کے لئے ہمیشہ دعا کرنے کی ضرورت (فرموده یکم فروری ۱۹۲۴ء) مشهد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا۔میں بہت دفعہ لوگوں سے یہ بات سنتا ہوں یا کتابوں میں دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ بعض لوگ اپنی نادانی کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جو چیز پہلے موجود ہو۔اس کے لئے ہدایت کی ضرورت نہیں صرف انہیں چیزوں کے بتانے کی ضرورت ہوتی ہے۔جو پہلے موجود نہ ہوں۔حالانکہ اس سے زیادہ جہالت کی اور کوئی بات نہیں۔دنیا میں جہالتیں دو قسم کی ہیں ایک جہالت تو یہ ہوتی ہے۔کہ آیا فلاں قسم کی ضرورت کی چیز موجود ہے یا نہیں۔اور کیا وہ ضرورت پوری ہو سکتی ہے یا نہیں۔دوسری جہالت یہ ہے کہ وہ ضرورت کس جگہ سے پوری ہو سکتی ہے۔یہ دونوں جہالتیں تباہی کا موجب ہوتی ہیں ایک ایسا شخص جس کو یہ معلوم نہیں کہ میری بیماری کا علاج ہے اور ایک وہ جس کو یہ معلوم نہیں کہ اس بیماری کا علاج کہاں ہو سکتا ہے۔لیکن اسے یہ معلوم نہیں کہ اس کی بیماری کا علاج کہاں ہو سکتا ہے۔تو وہ بھی ادھر ادھر دھکے کھاتا پھرے گا۔کبھی وہ ترکھانوں کے پاس جائے گا۔کہ مجھے کو نین دو کبھی لوہاروں کے پاس چلا جائے گا کہ مجھے فلاں دوائی دے دو۔غرضیکہ بیسیوں چیزیں ہم دیکھتے ہیں کہ جن کو لوگ باوجود ان کے روزانہ استعمال کے پھر ان کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں سے ملتی ہے۔مثلاً چائے ہی ہے۔جس کے متعلق بہت لوگ نہیں جانتے کہ وہ کہاں سے پیدا ہوتی ہے۔حالانکہ وہ رورانہ اسے استعمال کرتے ہیں۔لیکن ان کو معلوم نہیں کہ جائے ہندوستان میں بھی پیدا ہوتی ہے۔لیکن پنجاب کے ضلع کانگڑہ میں کثرت سے پیدا ہوتی ہے عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ جائے ولایت میں ہی پیدا ہوتی ہے۔پس جہالت صرف اسی بات کا نام نہیں کہ کوئی چیز معلوم نہ ہو۔اور کسی چیز کا علم نہ ہو بلکہ یہ بھی جہالت ہے کہ کسی چیز کی ضرورت