خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 303

303 ہو۔تو اس شخص کو دیکھ لے یہ کہہ کر آپ نے ایک شخص ایسے کی طرف اشارہ فرمایا جو لڑائی میں کفار سے بڑی سرفروشی سے لڑ رہا تھا ایک صحابی کہتے ہیں۔مجھے خیال ہوا کہ بعض لوگوں کو اس بات سے ابتلاء نہ آجائے کہ ایک ایسے مخلص شخص کو جہنمی کہا گیا ہے۔کیونکہ وہ اس طرح لڑ رہا تھا کہ مسلمان کہہ رہے تھے کہ خدا تعالٰی اس کو جزائے خیر دے۔وہ صحابی اس کے پیچھے ہو لئے۔آخر وہ زخمی ہوا۔اس نے رونا شروع کیا۔صحابہ آکر کہتے تجھے جنت کی بشارت ہو۔مگر وہ کہتا کہ تم مجھے جنت کی بشارت نہ دو۔بلکہ جہنم کی بشارت دو۔کیونکہ میں خدا کے لئے نہیں اپنے نفس کے لئے لڑ رہا تھا۔آخر جب وہ درد سے بے تاب ہو گیا۔تو اس نے اپنا نیزہ گاڑا اور اپنا پیٹ اس پر رکھ کر ہلاک ہو گیا۔ا۔اس طرح خود کشی کر کے اس نے ثابت کر دیا کہ وہ جہنمی تھا پس کسی شخص کی حالت محفوظ نہیں ہوتی۔جب تک کہ خدا تعالیٰ اس کے وجود کو اپنا وجود نہ کہدے اور اس کی یہ حالت نہ ہو جائے۔من تو شدم تو من شدی من جان شدم تو تن شدی تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری پس کتنا ہی مخلص اور کتنی ہی خدمت کرنے والا کوئی ہو۔یہ کہنا کہ وہ ٹھوکر نہیں کھا سکتا۔درست نہیں۔ہماری جماعت کے بعض لوگوں نے اس لئے ٹھوکر کھائی ہے کہ پیغامیوں میں ایسے لوگ مل گئے۔جو بڑے مخلص اور خدمت گزار تھے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ بے شک انہوں نے خدمتیں کیں مگر یہ بھی تو ظاہر ہے کہ علم و عرفان چھینے بھی جاتے ہیں۔اور کھوئے بھی جاتے ہیں۔ان کے متعلق ایسا ہی ہوا۔دوسرا نکتہ جو اس سورۃ میں قابل لحاظ ہے۔وہ خوف و رجا کی حالت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔۲۰ اور قرآن کریم میں بھی آتا ہے۔کہ ایمان خوف اور رجا میں ہے۔اور ایمان کی حقیقت خوف و رجا کے درمیان ہے۔سورۃ فاتحہ بھی اسی کی طرف رہبری کرتی ہے۔الحمد للہ کہہ کر رجاء پیدا کی ہے۔اور غیر المغضوب علیہم ولا الضالین کہہ کر خوف سامنے آجاتا ہے۔یہ راستہ ہے جس پر مسلمان چلتا ہے اور یہی پل صراط ہے جس کے ایک طرف بہشت ہے اور ایک طرف دوزخ۔ایمان اسی پل پر چلنے سے مکمل ہوتا ہے۔پس خواہ کسی میں کتنا ہی اخلاص ہو۔اس کے لئے بھی ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے لوگ تمام کاموں میں اس نکتہ کو نہ بھولیں۔