خطبات محمود (جلد 8) — Page 298
298 مضمون لکھنے کی مشق ہے۔یا تھوڑی مشق سے اچھے لکھنے اور بولنے والے ہو سکتے ہیں۔خاموش ہیں۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ بولنے اور لکھنے کی طرف توجہ کرو۔مگر اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ہر شخص جو کچھ لکھنے وہ ضرور چھپ جائے۔کئی لوگ میرے پاس شکایت کرتے ہیں کہ ہم نے مضمون بھیجا تھا۔مگر ایڈیٹر نے درج نہیں کیا میں کہتا ہوں۔ایڈیٹر اسی لئے رکھا جاتا ہے کہ مضمون کو درج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے اور دیکھے کہ کون سا مضمون درج ہونے کے قابل ہے اور کون سا نہیں۔یہ اس کا فرض ہے۔اسے کرنے دو۔اور اس کی جگہ نہ چھینو۔اگر ایسا ہو کہ جو کچھ کوئی لکھے وہ ضرور چھپ جائے۔تو پھر ایڈیٹر رکھنے کی کیا ضرورت تھی۔ایک پوسٹ بکس لگا دیا جاتا۔جو کچھ کوئی اس میں ڈالتا وہ کاتب نکال کر لکھ دیتا اور اس طرح اخبار تیار ہو کر شائع ہو جاتا۔پس ضروری نہیں کہ ہر ایک مضمون جو لکھا جائے وہ ضرور اخبار میں درج ہو جائے۔ایڈیٹر جس کو مناسب سمجھے گا۔شائع کرے گا۔لیکن ہر ایک کو چاہیئے مضمون نویسی کی مشق ضرور کرے۔اور کوشش کرے کہ اس کا مضمون اخبار میں درج ہونے کے قابل ہو جب وہ اس قابل ہو گا۔تو ایڈیٹر کیوں نہ درج کرے گا۔لیکن مشق کے لئے مضمون کا اخبار میں چھپنا ضروری نہیں بلکہ تم اپنے احباب اور دوستوں کو خطوط لکھ کر لکھنے کی مشق کرو۔ایڈیٹر اگر تمہارے مضمون کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتا ہے۔تو تمہارے دوست ایسا نہیں کریں گے۔بلکہ وہ شوق سے تمہارے مضامین کو پڑھیں گے۔لیکن میں کہتا ہوں سب ایسے نہیں کہ ان کے مضامین ناقابل اندراج ہوں بلکہ ہماری جماعت میں سینکڑوں مضمون نویس ہوں گے یا ہو سکتے ہیں کہ جن کے مضامین کو فخر سے ایڈیٹر اپنے اخبار یا رسالہ میں درج کریں گے۔اسی طرح لیکچروں کے متعلق بولنے کی مشق کی جائے۔علاوہ لیکچر کے ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ مجالس میں بیٹھ کر مذہبی گفتگو کی جائے۔مگر میں دیکھتا ہوں۔وہ لوگ جو اس طرح مجالس میں باتوں باتوں میں دین کی خدمت کر سکتے ہیں۔وہ بجاے مذہبی باتوں کے عام دنیوی امور کے متعلق گفتگو کرتے رہتے ہیں۔حالانکہ اگر مجالس میں تبلیغ کرنے کی کوشش کریں۔تو بہت مفید ہو سکتا ہے۔پس میں جماعت کے تمام اصحاب کو کہتا ہوں کہ جو بول سکتے ہیں وہ بولنے اور جو لکھ سکتے ہیں۔وہ لکھنے کی طرف زیادہ توجہ کر کے دین کی خدمت میں مشغول ہوں۔