خطبات محمود (جلد 8) — Page 276
276 اگر قادیان کے احمدیوں کے علاوہ ساری قادیان کی آبادی غیر احمدیوں ہندوؤں اور چوڑھوں کو بھی میزبان فرض کر لیا جائے تب بھی مہمانوں کی تعداد میزبانوں سے بڑھی ہوئی ہوگی۔کیونکہ قادیان کی ساری آبادی چالیس ہزار کے قریب ہے جس میں چوڑھے سائنسی ہندو اور سکھ غیر احمدی سب شامل ہیں۔مگر آنے والوں کی تعداد قریباً آٹھ ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔پس اتنے سے گاؤں میں اتنے زیادہ مہمان آتے ہیں اور یہ اپنی قسم کی ایک مثال ہے بعض ہندوؤں کے تیوہاروں پر لوگ کثرت سے جاتے ہیں مگر جہاں وہ لوگ جمع ہوتے ہیں وہاں کے رہنے والے ان کے میزبان نہیں ہوتے۔باہر سے آنے والے اپنا ہر ایک انتظام آپ کرتے ہیں۔اسی طرح مکہ مکرمہ والوں سے حاجیوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے مگر مکہ مکرمہ کے لوگ میزبان نہیں ہوتے۔جو لوگ حج کو جاتے ہیں وہ اپنے رہنے اپنے کھانے اور اپنی دیگر ضروریات کا خود انتظام کرتے ہیں۔مکان کرایہ پر لیتے ہیں کھانا خریدتے ہیں یا پکاتے ہیں مکہ والوں کو اس سے کچھ غرض نہیں ہوتی۔اگر ان کو فکر ہوتی ہے تو یہ کہ ان آنے والوں سے سال بھر کا خرچ کس طرح حاصل کیا جائے۔پس ہمارے جلسہ کو ہی یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں مہمانوں کی میزبانوں سے تعداد بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہاں مہمانوں کی ساری ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔اس امتیاز میں نہ مسلمانوں کا نہ عیسائیوں کا نہ ہندوؤں کا نہ کسی اور قوم کا کوئی اجتماع ہمارے جلسہ کی مثال پیش کر سکتا ہے۔اور یہ بات ہمارے جلسہ کو تمام دنیا کے مجامع سے اسی طرح ممتاز کر کے دکھاتی ہے۔جس طرح ہماری جماعت کے دینی کام اور اس کی تحریکات ہماری جماعت کو دیگر جماعتوں سے الگ کر کے دکھاتی ہیں۔مگر ہم اس پر خوش نہیں ہو سکتے کہ ہمارے جلسہ کو یہ امتیاز حاصل ہے کیونکہ امتیاز کام سے ہوتا ہے نام سے نہیں ہوتا۔عزت کام سے حاصل ہوتی ہے نام سے نہیں۔پس ہمیں یہ امتیاز تبھی حاصل ہو سکتا ہے جب ہم اپنے آپ کو اپنے کاموں کے ذریعہ ممتاز کر کے دکھائیں۔جس شخص کے گھر میں کوئی مہمان نہیں آتا اور وہ کسی کی مہمان داری نہیں کرتا تو وہ کسی الزام کا مستوجب نہیں۔مگر جن کے گھر مہمان آتے ہیں وہ اگر اپنے فرض کو ادا نہ کریں۔تو وہ الزام سے نہیں بچ سکتے۔اس لئے میں اپنے دوستوں کو جو قادیان میں رہتے ہیں کہتا ہوں کہ وہ پہلے سے زیادہ اپنے فرض کی طرف متوجہ ہوں جیسا کہ ہر سال مہمانوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔اس دفعہ بھی اللہ تعالٰی کے فضل سے امید ہے کہ تعداد بڑھ جائے گی۔یہ لوگ دور دور سے آتے ہیں۔بنگال سے مدر اس سے بمبئی سے یوپی سے لوگ آتے ہیں۔یہاں کوئی تماشہ کی جگہ نہیں جس کے لئے وہ آتے ہیں۔وہ خدا کی تحریک اور اس کے منشاء کے مطابق آتے ہیں اور یہ خدا کا منشاء ہے کہ وہ ہر سال تعداد کو بڑھا کر لاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہم سے ہر سال پہلے سے زیادہ ایمان اور بڑی خدمت کی خواہش کرتا ہے۔اس کا