خطبات محمود (جلد 8) — Page 259
259 ہنستے والوں سے تو اس طرح بدلہ لے کہ ایسے اعمال نیک بجا لا کہ جب تو فوت ہو تو اس وقت تو ہنس رہا ہو کہ خدا کے فضل کے نیچے جا رہا ہے اور وہ لوگ جو تیری پیدائش کے وقت ہنتے تھے وہ روئیں کہ ایسا نیک انسان ہم سے جدا ہو رہا ہے۔اور ایسے عزیزوں کی جو خدمت دین کرنے والے ہوں۔جدائی ایک تلخ گھونٹ ہے۔مگر قرآن کریم ایسے لوگوں کو جو خدمت دین میں جان دیں۔شہید کہتا ہے اور ان کو زندہ ٹھراتا ہے کیونکہ حقیقی زندگی وہی ہے جو خدا کے نزدیک زندگی ہو۔پس خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ جو میرے لئے اور میرے دین کی خدمت کرتا ہوا مرتا ہے۔وہ مردہ نہیں بلکہ زندہ ہے کیونکہ ایسے شخص کو مردہ کہنا خدا کے کلام کی ہتک ہے کیونکہ وہ شخص جو خدمت دین کرتا ہوا مر گیا۔اس پر خدا راضی ہو گیا۔اور جس پر خدا راضی ہو وہ کیسے مرسکتا ہے۔جو خدا کے کام میں مرے خدا اس کو کیسے مُردہ قرار دے سکتا ہے۔مرنے کے معنی فنا ہونے اور مٹنے کے ہیں۔مگر خدا کی راہ میں جو جان دے۔وہ فنا نہیں ہو سکتا۔اور خدا چونکہ باقی ہے اسلئے وہ بھی بقا پاتا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ میں آج ایک دین کی خدمت میں جان دینے والے عزیز کی یاد کے لئے اور دوستوں کو اس کے لئے دعا کی تحریک کرنے کے واسطے خطبہ پڑھنے لگا ہوں۔وہ دوست جس کو خدمت دین میں شہادت ملی ہے وہ ہمارا عزیز بچہ عبید اللہ ۲ ہے۔بہت لوگ جو مادیت کی طرف توجہ رکھتے ہیں کہتے ہیں بڑی آواز کدھر سے آتی ہے۔وہ لوگ اس آواز کو جو امریکہ اور انگلستان وغیرہ سے آئے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔اور وہ لوگ جو ایسی ہی قربانی کے ماتحت دین کی خدمت کے لئے کسی اور ملک میں گئے ہوں ان کی آواز ان کے نزدیک زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔حالانکہ ان کی قربانیاں بھی ایسی ہی ہیں جیسے انگلستان اور امریکہ وغیرہ جانے والوں کی ہیں۔یورپ سے آنے والی آواز کو اہم سمجھتے ہیں حالانکہ خدا کی راہ میں کام کرنے والے سب برابر ہیں خواہ وہ کہیں ہوں۔پس جو شخص کسی معروف علاقہ اور غریبوں میں تبلیغ کرتا ہوا جان دیتا ہے۔خدا کے نزدیک اس شخص کے برابر ہے جو امیروں میں خدمت دین کرتا ہوا جان دے۔اور جس طرح امریکہ اور انگلستان میں خدمت دین کرنے والے معزز ہیں اسی طرح وہ بھی معزز ہیں جو ادنی اقوام میں خدمت دین کرتے ہیں۔اور میرے نزدیک دونوں بوجہ خدمت دین کے واجب التعظیم ہیں۔گو مادیت کے اثر کی وجہ سے ماریشیس کے مبلغ بعض لوگوں کی نگاہ میں نہ آتے ہوں لیکن وہ دین حق کے مبلغ ہیں۔انہوں نے بھی اپنے رشتہ داروں اور پیاروں کو دین کی خدمت کے لئے اسی طرح چھوڑا ہے جیسا کہ امریکہ اور انگلینڈ میں جانے والوں نے چھوڑا ہے۔انہوں نے بھی وطن سے جدائی اختیار کی ہے۔جیسی کی امریکہ و انگلستان جانے والوں نے کی ہے۔جس طرح امریکہ و انگلستان میں کام کرنے والے مبلغ خدا کا نام پھیلانے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کئے ہوئے ہیں۔اسی طرح انہوں نے بھی وقف کی