خطبات محمود (جلد 8)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 558

خطبات محمود (جلد 8) — Page 254

254 ہوں گے اور ان کے لئے بد ظنی کرنے کی کوئی وجہ نہ ہوگی مگر باوجود اس کے وہ حسن ظنی کی شکایت کریں گے۔اور اسی وقت کسی نہ کسی وقت میں وہ مجبور ہوں گے کہ حسن ظن کریں۔تو جس قدر بے دردی سے اس خلق کو پامال کیا گیا ہے اور کوئی نہیں۔حالانکہ میں سمجھتا ہوں کہ قوموں کے نظام تمام قسم کے آپس کے تعلقات اس ایک خلق پر چلتے ہیں۔عدالتیں عدالت نہیں رہ سکتیں اگر اس کو چھوڑ دیں۔دوستی اور رشتہ داری نہیں رہ سکتی۔ایک خاوند اپنی بیوی کے سپرد گھر کا سب کام کرتا ہے۔اگر وہ خاوند خیال کرے کہ اس کی بیوی خائن اور بے وفا ہے تو اس کے گھر کا انتظام نہیں چل سکتا۔یا اگر ایک شخص کسی سے دوستی کرتا ہے اور وہ سمجھ لے کہ یہ میرا دوست دراصل دوست نہیں دشمن ہے تو ایسے شخص کو سچا دوست نہیں مل سکتا۔اگر کسی آقا میں یہ مرض ہو کہ وہ سمجھے کہ اس کے نوکر وفادار اور کارکن نہیں تو اس کا کارخانہ درہم برہم ہو جائے گا۔اسی طرح اگر نوکر یہ سمجھے کہ میں جس شخص کی نوکری کرنے لگا ہوں وہ مجھے تنخواہ نہ دے گا تو پھر وہ کسی کی ملازمت نہ کر سکے گا۔غرض بدظنی ہر ایک کام کو برباد کرنے والی ہے۔اگر مزدور مزدوری کرنا ہے تو حسن ظنی کرتا ہے کہ یہ مجھے میری اجرت دے دے گا لیکن اگر وہ بد ظنی کرے تو وہ شام کو محرام گھر کو جائے گا۔وہی مزدور کام مہیا کر سکتا ہے جو یہ حسن ظن رکھتا ہے کہ میری مزدوری مل جائے گی۔کئی دفعہ اس کے پیسے مارے بھی جائیں گے مگر زیادہ تر اس کا خیال یہی ہو گا کہ نہیں مارے جائیں گے۔اور اس کے مطابق وہ عمل بھی کرے گا۔اسی طرح جو شخص کسی مزدور کو اپنے کام پر لگاتا ہے اس کو بھی اگر یہی خیال ہو کہ ممکن ہے یہ مزدور غدار ہو تو اس کو مزدور نہیں مل سکتا۔اگر مجسٹریٹ یہ بدظنی کرے کہ جو بھی ملزم اس کے پاس آتا ہے وہ ضرور مجرم ہی ہے۔اس نے ضرور کچھ نہ کچھ کیا ہی ہو گا۔کسی نے جھوٹا الزام تھوڑا ہی لگایا ہے اس سے سینکڑوں ہزاروں بے گناہ پھانسی پر لٹک جائیں۔یا اسی طرح اگر مجسٹریٹ یہ بدظنی کرے کہ تمام الزام لگانے والے جھوٹے ہیں۔تو بہت سے چور، ڈاکو، قاتل، غاصب تو آزاد ہو جائیں اور وہ لوگ جن کو در حقیقت نقصان پہنچا ہے تباہ ہو جائیں۔اور ان کی کسی قسم کی داد رسی نہ ہو سکے۔مجسٹریٹ تبھی انصاف کر سکتا ہے اگر وہ دونوں طرف سے حسن ظن لیکر بیٹھے۔پھر وہ دونوں کے بیانات پر غور کرے تب وہ حق کو پا سکتا ہے۔گورنمنٹ نے شک کا فائدہ ملزم کو دیا ہے اور عدالتیں اس اصول کے ماتحت کام نہ کریں تو وہ انصاف کو نہیں پا سکتیں۔عدالتیں بدظنی کریں تو کئی جھوٹے بچ جائیں اور بچے سزا پا جائیں۔غرض جماعتوں اور حکومتوں اور عدالتوں اور دوستیوں اور رشتہ داریوں اور کاروبار کے دیگر شعبوں میں جتنا حسن ظنی کا دخل ہے بدظنی کا نہیں ہے۔اور حسن ظنی پر ہی یہ تمام کام چل رہے ہیں۔ان امور میں جتنا حسن ظنی سے کام لیا جاتا ہے اگر اس کے بجائے بد ظنی ہو تو تمام کارخانے ہی